فونز کی جاسوسی کے خلاف اقوامِ متحدہ میں قرارداد

Image caption سنوڈن نے سب سے پہلے امریکہ کے جاسوسی کے پروگرام کو طشت از بام کیا تھا

جرمنی اور برازیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اس ڈیجیٹل دور میں پرائیویسی کے حقوق سے متعلق قرارداد کا مسودہ جمع کرایا ہے۔

اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ حد سے زیادہ الیکٹرانک نگرانی کو ختم کرنا چاہیے۔ اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر ذاتی معلومات حاصل کرنا ’انتہائي نامناسب اور ذاتی زندگی میں دخل دینے والا عمل‘ ہے۔

برازیل اور جرمنی دونوں نے امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی نگرانی کے الزامات پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔

امریکی نگرانی کے متعلق ایڈورڈ سنوڈن نے انکشاف کیا تھا جس کے بعد تواتر کے ساتھ اس بابت نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس مسودے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں بحث ہوگی۔ اس مسودے میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا ہے۔

اس مسودے میں 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ’کمیو نیکیشن کی نگرانی کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرے۔‘

اس قرارداد پر اس ماہ کے آخر میں ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مسودے میں تمام ممالک سے بین الاقوامی قانون کے تحت پرائیویسی کے احترام کی ضمانت دینے کی درخواست کی گئي ہے۔

اس مسودے میں ان الزامات کا بھی ذکر ہے جس میں امریکہ نے دوسرے ممالک کے رہنماؤں مثلاً برازیل کی صدر اور جرمنی کی چانسلر کے فونز کی جاسوسی شامل ہی۔

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات سے پہل یہ باتیں سامنے آئیں کہ امریکہ کس حد تک جاسوسی کی سرگرمیوں ملوث رہا ہے۔

Image caption جرمنی کے ممبر پارلیمان نے سنوڈن سے روس میں ایک خفیہ مقام پر ملاقات کی

جب یہ انکشاف ہوا کہ این ایس اے کئی سالوں سے جرمنی کی چانسلر میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا تھا، تو جرمنی کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی نگرانی کی سرگرمیوں کے بارے میں براہ راست سنوڈن سے بات چیت کرنے کی خواہاں ہے۔

اس سے قبل سنوڈن نے ماسکو میں جرمنی کے ایک رکن پارلیمان سے ملاقات کی تھی اور این ایس اے کی جاسوسی کے متعلق جرمن حکومت کو معلومات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

سنوڈن کے وکلاء کا کہنا تھا کہ جرمنی کے تفتیش کاروں کے ساتھ ان کی کوئی بھی ملاقات جرمنی کے بجائے ماسکو میں ہی ہوگی۔

گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے اجلاس میں بھی امریکی جاسوسی پر جرمنی کی چانسلر نے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔

برازیل کی صدر نے بھی اس انکشاف پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ این ایس اے نے برازیل کی سرکاری تیل کمپنی پیٹروبراس کے کمپیوٹر نیٹ ورک کو ہیک کر کے ای میل اور ٹیلی فون کال کی معلومات حاصل کیں۔

اسی بارے میں