یاسر عرفات کے جسم میں پلونیم کی غیر معمولی مقدار کی تصدیق

Image caption فورنسک ماہرین نے 2004 میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی تھی

سوئٹزلینڈ کے فورنسک ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے جسم میں تابکار مادے پلونیم کی کافی زیادہ مقدار ملی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات حتمی نہیں ہے کہ سنہ 2004 میں ان کی ہلاکت اسی مادے کی وجہ سے ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق یاسر عرفات کے جسم میں پلونیم ذرّات کی مقدار معمول سے اٹھارہ گنا زیادہ تھی۔

واضح رہے کہ یاسر عرفات کی وفات کی سرکاری رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ان کی موت طبعی تھی۔

یاسر عرفات کی بیوہ سوہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے اس خدشے کو دہرایا کے یاسر عرفات کو قتل کیا گیا ہے اور اب یہ رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ براہِ راست کسی کو نامزد نہیں کر سکتیں کیونکہ دنیا بھر میں ان کے کئی دشمن تھے۔

سوئس ماہرین کی رپورٹ بدھ کو الجزیرہ نے نشر کر دی تھی۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن نے سنہ 2012 میں اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پیرس کے ہسپتال میں یاسر عرفات کے زیر استعمال برتنوں میں پلونیم دو سو دس زہر کے اثرات پائے گئے ہیں اور فرانسیسی حکام نے زہر آلود برتن فلسطینی رہنما کی بیوہ کے حوالے کیے تھے۔

فرانس نے سنہ 2012 میں یاسر عرفات کی بیوہ کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد فرانسیسی، سوئس اور روسی فورنسک ماہرین نے رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کی تھی۔

یاسر عرفات کی موت کے وقت خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ان کی موت قدرتی نہیں تھی اور کئی لوگوں نے اسرائیل پر انگلی اٹھائی جس نے عرفات کو ڈھائی برس تک رام اللہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسرائیل کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اس رپورٹ پر بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ سائنس نہیں بلکہ محض ایک ڈرامہ ہے۔

اسرائیل نے یاسر عرفات کو ہلاک کرنے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ اسرائیل کا موقف رہا ہے کہ 75سالہ عرفات نے غیر صحت مندانہ طرز زندگی اپنا رکھا تھا۔

لوزین میں ماہرین نے یاسر عرفات کے میڈیکل ریکارڈز، ان کی لاش سے لیے گئے نمونوں اور ہسپتال میں ان کے زیر استعمال اشیا کا معائنہ کیا۔

اس رپورٹ میں ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پلونیم کی غیر معمولی مقدار سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ فلسطینی رہنما کو زہر دیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ حتمی نتیجے پر اس لیے نہیں پہنچ سکے کہ ایک تو یاسر عرفات کی موت کو وقت بہت گزر گیا تھا، اور محدود تعداد میں نمونے دستیاب تھے۔

یاسر عرفات کی بیوی سوہا نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے فورنسک ماہرین سے ملاقات کی تھی۔

پیرس میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے فلسطینی رہنما کی بیوہ نے کہا ’میں ایک سیاسی قتل کے جرم سے پردہ اٹھا رہی ہوں۔‘

ماہرین کی ایک ٹیم نےگذشتہ برس نومبر میں رام اللہ میں یاسر عرفات کی قبر کشائی کر کے نمونے حاصل کیے تھے۔

اسی بارے میں