بیس سال بعد نیویارک اور ورجینیا میں ڈیمو کریٹس کی فتح

Image caption ان مقابلوں کو اگلے سال کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے لیے دونوں جماعتوں کا امتحان قرار دیاجا رہا تھا

امریکی صدر اوباما کے دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی ریاست ورجینیا اور نیویارک شہر میں ہونے والے اہم انتخابات میں ڈیمو کریٹس نے کامیابی حاصل کی ہے۔

ووٹوں کی گنتی لگ بھگ مکمل ہے اور بل ڈی بلاسیو اب نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ کی جگہ لیں گے۔ وہ دو دہائیوں میں نیویارک شہر میں پہلے ڈیمو کریٹ میئر ہوں گے۔

امریکہ کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے: کیری

امریکہ: لاکھوں سرکاری ملازمتیں خطرے میں

ورجینیا میں گورنروں کے عہدے کے لیے ٹیری میک اولیف نے کین کوچینیلی کو سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔

اس سے پہلے نیو جرسی میں رپبلکن امیدوار کرس کرسٹی دوبارہ گورنر منتخب ہوئے۔

منگل کو ہونے والے ان مقابلوں کو اگلے سال کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے لیے دونوں جماعتوں کا امتحان قرار دیاجا رہا تھا۔

نیویارک میں 99 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد بل ڈی بلاسیو نے 73فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان سے شکست کھانے والے جو لوٹا نے 24 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

جیتنے کے بعد ڈی بلاسیو نے اپنی تقریر میں کہا کہ نتائج بتاتے ہیں کہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر نے ’ترقی کی راہ‘ چن لی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آمدنی میں تناسب ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔

وہ 1993 کے بعد سے شہر کے پہلی ڈیموکریٹک میئر ہیں۔

انہوں نے 2000 میں ہلیری کلنٹن کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی۔ انہیں سب سے لبرل سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کے حریف جو لوٹا نے اپنی شکست تسلیم کر تے ہوئے کہا کہ اچھا مقابلہ رہا اور اسے ایک قابل شخص نے جیتا ہے۔

جو لوٹا گورنر بلوم برگ کی انتظامیہ میں شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ چلاتے تھے۔

اسی بارے میں