’ایران کے جوہری پروگرام پر جمعے کو معاہدے کا امکان‘

Image caption جان کیری کی جنیوا آمد کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

امریکی وزیرِ خارجہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی بات چیت میں شرکت کے لیے جمعے کو مشرقِ وسطیٰ کا دورہ مختصر کر کے جنیوا پہنچ رہے ہیں۔

جان کیری کے اس غیرمتوقع دورے کو ان مذاکرات کی کامیابی کی اطلاعات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ جمعے کو ہونے والی بات چیت میں معاہدہ ممکن ہے۔

محمد جواد ظریف نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر نہیں روکے گا لیکن مذاکرات میں مختلف ایشوز پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جان کیری ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اختلاف کم کروانے کی کوشش کریں گے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ سفر کرنے والی بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جان کیری کی جانب سے اپنے دورے کا شیڈیول تبدیل کر کے جنیوا مذاکرات کے لیے جانے کا مطلب ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جمعے کی صبح کو مل کر ایک بیان تیار کیا جاسکتا ہے جو تین نکات پر مشتمل ہو گا۔ ایک مشترکہ مقصد، دوسرا ایک سال کے اندر مکمل معاہدہ اور تیسرا مشترکہ اعتماد سازی کے لیے اقدامات۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں نے واضح طور پر ان نکات کو قبول کیا ہے اور اب اس بارے میں تفصیلات پر بات کی جا رہی ہے۔

تاہم اس بارے میں عالمی طاقتوں یعنی امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں سے کسی نے کوئی بیان نہیں دیا۔

جمعرات کو امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اگر ایران ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو اس پر لگائی گئی پابندیاں نرم کی جاسکتی ہیں۔

حسن روحانی کے اگست میں صدر بننے کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں جن سے کوئی معاہدہ ہونے کی امیدیں وابستہ کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر دباؤ کم کرنا ’تاریخی غلطی ہو گی۔‘

خیال رہے کہ ایران پی فائیو پلس ون گروپ کے ساتھ 2006 سے بات چیت کرتا رہا ہے کیونکہ وہ خود پر اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ہٹوانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں