برطانوی فوجی افغان شہری کو ہلاک کرنے کا مجرم

Image caption افغان شخص ہیلی کاپٹر سے کی گئی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اور فوجیوں کو کھیتوں سے ملا تھا

برطانیہ کے ایک فوجی عدالت نے ایک برطانوی فوجی کو افغانستان میں ایک زخمی افغان شہری کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

فوجی کے اقدام کو وکیلِ استغاثہ نے ’سزائے موت‘ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

اے کے نام سے پہچانے جانے والے فوجی کو افغانستان کے صوبہ ہلمند میں گشت کے دوران ایک نامعلوم شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔

اسی کیس میں دو اور فوجیوں اے اور بی کو قتل کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

ہلاک کیے جانا والا افغان شہری ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوا تھا اور برطانوی فوجیوں کو زخمی حالت میں کھیت سے ملا تھا۔

بی کے نام سے جانے والے فوجی نے 15 ستمبر 2011 کو گشت کے دوران اس شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے واقعے کو اپنے ہلمٹ میں نصب کیمرے سے غیر ارادی طور پر ریکارڈ کیا تھا جس کی ویڈیو مقدمے کےدوران عدالت میں دکھائی گئی۔

ویڈیو فوٹیج میں فوجی اے کو ایک افغان قیدی پر نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کرتے اور یہ کہتے ہوئے کہ ’لے، اب سنبھال اسے۔۔یہ کوئی ایسا کام نہیں جو آپ ہمارے ساتھ نہیں کرو گے‘ کہتے دکھایا گیا۔

فوجی اے نے یہ بھی کہا کہ ’ میں نے ابھی جنیوا کنونیشن کی خلاف ورزی کی ہے‘ جس کے جواب میں فوجی بی نے کہا ’ہاں دوست‘۔

کورٹ مارشل کے دوران وکیلِ استغاثہ ڈیوڈ پیری نے عدالت کو بتایا کہ’یہ کوئی جنگ کے دوران قتل کرنے کا واقعہ نہیں ہے۔ یہ سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔‘

استغاثہ نے فوجی بی اور سی پر اس قتل میں فوجی اے کے ساتھی بننے اور انھیں یہ قتل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

فوجیوں کے لواحقین کے آنکھوں میں آنسو تھے جب بل فورڈ، ویلٹ شائر میں فوجی عدالت نے اس مقدمے میں اپنا فیصلہ سنایا۔

فوجی اے کو حراست میں لیا گیا جنھیں چھ دسمبر کو سزا سنائی جائے گی جبکہ فوجی بی اور سی کو بری کر دیا گیا۔

برطانوی رائل میرین کے بریگیڈئیر بل ڈنہم نے کہا کہ یہ قتل ’ایک حیران کن اور دہشت ناک اقدام ہے۔‘

برطانیہ کی سول پولیس کو افغان شخص کو ہلاک کرنے کی ویڈیو ایک فوجی خدمات دینے والے شخص کے لیپ ٹاپ سےملی جس کے بعد اکتوبر 2012 میں ان تینوں فوجیوں کو شاہی فوجی پولیس نےگرفتار کیا۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کیرولین وائٹ نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ افغانستان میں جاری کشیدگی سے متعلق برطانوی فوجی قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں