شام میں 14 سال بعد پولیو، ’وائرس پاکستان سے آیا‘

اقوام متحدہ کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد ابتدائی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ پولیو کا یہ وائرس پاکستان سے آیا ہے۔

یہ بات جمعہ کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت اور بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم یونیسیف کے مشترکہ بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان کے مطابق شام کے صوبے دیر الزور میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ابتدائی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پولیو وائرس پاکستان سے آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’یہ پولیو وائرس پاکستان سے آیا ہے اور اس پولیو وائرس کی مصر، اسرائیل اور مغربی کنارے میں پولیو وائرس سے مماثلت ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان سونا باری کا کہنا ہے کہ اس پولیو وائرس کے حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ’ٹیسٹ کے باوجود ہمیں کبھی یہ نہیں معلوم چل سکے گا کہ یہ وائرس شام کیسے پہنچا۔‘

عالمی ادارہ صحت کےمطابق شام میں چودہ برس بعد پولیو وائرس کے تصدیق ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد وہ مشرق وسطیٰ میں پولیو مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ اس مہم میں سات ممالک میں دو کروڑ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان کاکہنا ہے کہ دو کروڑ بچوں کو قطرے پلانے کے لیے چھ ماہ لگیں گے۔

اس سے قبل شام کی وزیر برائے سماجی امور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ’یہ وائرس شامی باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے پاکستانی شدت پسندوں کی وجہ سے آیا ہے‘۔

تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی ثبوت یا مزید تفصیلات نہیں دیں۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیو وائرس کی ایک ایسی قسم ملی تھی جو اس سے پہلے پاکستان کے شہر سکھر سے دریافت ہونے والے وائرس سے مماثلت رکھتی ہے۔

پولیو وائرس کی نشاندہی کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں نے حکومتِ پاکستان سے کہا تھا کہ وہ ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے فوری انتظامات کرے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، یونیسف اور محکمہ صحت کے اہلکاروں کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ میں نکاسی آب کی نالیوں سے حاصل کردہ دو نمونوں میں وائرس کی وہ قسم پائی گئی ہے جو پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر سے دریافت ہوئی تھی۔

اس وائرس کی نشاندہی کے بعد مارچ میں قاہرہ میں انسدادِ پولیو کے سلسلے میں مذہبی علماء کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں ایک مذمتی قراراد منظور کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صحت کے اہلکاروں کا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا غلط ہے۔

علما کانفرنس نے عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف سے کہا ہے کہ وہ اقوام عالم تک پیغام پہنچائیں کہ کوئی بھی ملک صحتِ عامہ کی کارروائی کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پولیو مہم کی ٹیموں پر حملے کیے گئے ہیں جس کے باعث پولیو مہم مکمل نہیں ہو پاتی۔

اسی بارے میں