فلپائن کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا

فلپائن
Image caption خدشہ ہے کہ جُوں جُوں امدادی ٹیمیں فلپائن کے دورداز علاقوں تک پہنچیں گی مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی جائیں گی

فلپائن میں امدادی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ نے تباہ کن طوفان ہیان سے ہونے والے تباہی کے بعد کے مناظر کو مکمل افراتفری کا عالم قرار دیا ہے۔

فلپائن میں بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ریڈ کراس کے سربراہ رچرڈ گورڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ سڑکوں کا صاف کیا جانا نہایت ضروری ہے تاکہ دور دراز علاقوں تک خوراک، کپڑے، دوائیں اور پینے کا صاف پانی پہنچایا جا سکے۔

فلپائن میں پانی کا ’عذاب‘

’تاریخ کا بدترین طوفان‘ جزیرے سے ٹکرا گیا

ہیان نامی طورفان سے فلپائن میں 40 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

متاثرین کی مدد کے لیے امریکی فوج کے ہوائی اور بحری جہاز علاقے میں بھیجےگئے ہیں۔

امریکی صدر نے فلپائن میں جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

دیگر ممالک نے بھی لاکھوں ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے اور کئی امدادی ادارے ہنگامی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فلپائن میں ریڈ کراس کے سربراہ رچرڈ گورڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہاں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہر جگہ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں۔ بہت زیادہ تباہی ہے۔

’اس وقت مکمل افراتفری کا عالم ہے لیکن امید ہے کہ جیسے جیسے امداد پہنچے گی حالات بہتر ہو جائیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکنوں کے لیے سڑکیں صاف کی جاری ہیں تاکہ وہ زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکیں۔ اور خدشہ ہے کہ وہاں پہنچنے پر انہیں راستے میں مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔

فلپائن میں تباہی پھیلانے کے بعد ہیان نامی یہ طوفان نے ویتنام کے شمالی صوبے کوانگ نیہ سے ٹکرایا ہے۔ طوفان میں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ویتنام میں چھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تاہم اس دوران کم سے کم گیارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ہیان طوفان اب جنوبی چین کی جانب بڑھ رہا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اس کی رفتار میں بتدریج کمی واقع ہو گی۔

Image caption ریڈ کراس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس وقت مکمل افراتفری کا عالم ہے لیکن امید ہے کہ جیسے جیسے امداد پہنچے گی حالات بہتر ہو جائیں گے۔

فلپائن میں حکام کو سمندری طوفان ہیان سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ سکتی ہے۔

فلپائن کی حکومت نے اب تک سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ صرف ٹیکلوبان ہی میں دس ہزار افراد تک کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سمندری طوفان نے ٹیکلوبان میں گھروں، سکولوں اور ایک ہوائی اڈے کو تباہ کیا جبکہ امدادی کارکنوں کو تباہی کا شکار علاقوں تک پہنچنے میں دشواریاں درپیش ہیں۔

بہت سے علاقے صاف پینے کے پانی، بجلی اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں فوجی تعینات کیے گئے ہیں جن کی مدد کے لیے فوجی طیارے سامان لانے اور لے جانے کا کام کر رہے ہیں۔

پوپ فرانسس نے بھی سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اپیل کی ہے۔ فلپائن میں ان کے پیروکار بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

فلپائن میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وینگ فیلڈ کے مطابق ٹیکلوبان میں جگہ جگہ تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق وہاں ہزاروں مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں اور پینے کے صاف پانی اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہم بھی معطل ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد ٹیکلوبان کے ہوائی اڈے پر جمع ہیں تاہم پروازیں منسوخ ہونے سے انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

فلپائن کے ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل گونڈالائن پانگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر غور کر رہے ہیں جس کے مطابق ٹیکلوبان میں بڑی تعداد میں لاشیں پانی میں بہتی ہوئی دیکھی گئیں۔

ملک کے مرکزی علاقوں میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور طوفان سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں صحیح معلومات آنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔

حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ طوفان کی وجہ سے ملک کے 20 صوبوں میں لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

طوفان کی وجہ سے سمار، لیت اور بوہول کے صوبوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ یہ طوفان جمعے کی صبح فلپائن کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا۔ اس طوفان میں ہوا کی رفتار 379 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور اس کے سبب ساحل پر 15 میٹر اونچی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ اس دوران بعض جگہ 400 ملی میٹر بارش بھی ہوئی۔یہ اس سال فلپائن میں آنے والا پچیسواں طوفان ہے۔

اسی بارے میں