ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت ہی قریب تھے: جان کیری

Image caption ’آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان معمالات کو حل کرنے کے طریقۂ کار پر اتفاق ہوا ہے۔‘

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مسائل اتنے بڑے نہیں ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ ہو سکے۔

یہ بات انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا جنیوا میں عالمی طاقتیں اور ایران ایٹمی معاہدے کے ’بہت قریب‘ پہنچ گئے تھے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھیں کہ ایران حقیقی طور پر ایٹمی پروگرام نہیں چلا رہا ہے۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان تین روزہ مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تاہم سفارتکار بیس نومبر کو دوبارہ بات چیت کریں گے۔

جان کیری نے کہا ’ہم حقیقی طور پر معاہدے کے بہت بہت قریب تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کو اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ ’ہم نے پینتیس سال سے بات چیت نہیں کی ہے۔ ہم نے ان تیس گھنٹوں میں اتنی بات کی جو ہم نے تیس سال میں نہیں کی۔‘

اطلاعات کے مطابق عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان بات چیت اس وقت بغی معاہدے کے ختم ہو گئیں جب فرانس نے ایران کے ہیوی واٹر پلانٹ پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النہیان کے ساتھ پیر کو ابو ظہبی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جان کیری نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے سنیچر کو متفقہ طور پر ایران کو اپنا مجوزہ سمجھوتہ پیش کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فرانس نے اس پر دستخط کیے۔ ہم نے اس پر دستخط کیے اور سب اس پر متفق تھے کہ یہ ایک مناسب مجوزہ سمجھوتہ تھا۔‘

امریکی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ’ایران اس خاص موقعے پر اس سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہوا، اور اسے قبول نہ کر سکا۔‘

انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے اس بیان کو بھی قبل از وقت قرار دیا جس میں وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ کہیں عالمی برداری کسی ’برے معاہدے‘ میں نہ پھنس جائے۔

بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ عالمی برادری کے رہنماؤں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جلد بازی میں کسی ’برے معاہدے‘ میں نہ پھنس جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کو انتظار کرنا چاہیے اور معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

جان کیری نے کہا کہ ’ہم پراعتماد ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے اسرائیل کی بہتر حفاظت ہو سکتی ہے اور اسے اچھی سکیورٹی مہیا ہو سکے گی۔‘

انھوں نے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں وہ ’ایک ایسے سمجھوتے پر پہنچ سکتے ہیں جو سب کے معیار کے مطابق ہو۔‘

دوسری جانب عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان باقی معاملات کو حل کرنے کے لیے ’تعاون کے طریقۂ کار‘ پر اتفاق ہوا ہے۔

سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکوس کا کہنا ہے کہ آئندہ چند مہنیوں میں ایران کے ساتھ معلومات فراہم کرنے یا رسائی دینے کے چھ مخصوص معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی جو ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام پر معلومات دینے کے لیے رضامندی کا واضح امتحان ہو گا۔

جنیوا میں ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر تین روز تک مذاکرات ہوئے۔ سنیچر کو مذاکرات کے اختتام تک کوئی معاہدہ تو طے نہ پا سکا تاہم بیشتر سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران ہتھیار بنانے کے لیے یورینیئم افزودہ کر رہا ہے جبکہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

تین روزہ مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کو لاحق خدشات کو ختم کرنا تھا۔ ان مذاکرات میں ایران کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی شریک تھے۔

اس سے پہلے ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ مذاکرات میں معاہدہ طے کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے سے مایوس نہیں ہیں اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں