’مبالغہ آرائی سے حقائق نہیں چھپ سکتے مگر اعتماد زائل ہو گا‘

Image caption جواد ظریف نے ٹوئٹر پر امریکی وزیرِ خارجہ کو براہِ راست مخاطب کیا اور ان کے بیان کی تردید کی

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے مغربی طاقتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات ان کی وجہ سے بے نتیجہ ختم ہو گئے۔

محمد جواد ظریف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران نے معاہدہ قبول نہیں کیا۔

جواد ظریف نے کہا کہ جو جنیوا میں ہوا ’کسی قسم کا گھماؤ پھیراؤ‘ یا مبالغہ آرائی اسے نہیں بدل سکتی ’مگر اس سے اعتماد مزید زائل ہو گا۔‘

جواد ظریف نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکہ کے معاہدے کے مسودے کے آدھے حصے پر اتفاق نہ کر کے اسے خراب کیا۔

ایران اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے ساتھ جرمنی کے نمائندے 20 نومبر کو جنیوا میں دوبارہ مذاکرات کے لیے اکٹھے ہوں گے۔

مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران ہتھیار بنانے کے لیے یورینیئم افزودہ کر رہا ہے جب کہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان بات چیت اس وقت بغیر معاہدے کے ختم ہو گئی جب فرانس نے ایران کے بھاری پانی کے جوہری پلانٹ پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النہیان کے ساتھ پیر کو ابو ظہبی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جان کیری نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے سنیچر کو متفقہ طور پر ایران کو اپنا مجوزہ سمجھوتہ پیش کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فرانس نے اس پر دستخط کیے، ہم نے اس پر دستخط کیے اور سب اس پر متفق تھے کہ یہ ایک مناسب مجوزہ سمجھوتہ تھا۔‘

اس بیان پر جواد ظریف نے چند ٹویٹس کیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

’کسی قسم کا گھماؤ پھراؤ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا جو فائیو پلس ون کے رکن ممالک کے درمیان جنیوا میں ہوا۔ جمعرات شام چھ بجے سے سینیچر شام پونے چھے بجے کے درمیان مگر اس سے اعتماد مزید زائل ہو گا۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’مسٹر سیکرٹری کیا یہ ایران تھا جس نے امریکی معاہدے کے مسودے کے نصف حصے کو خراب کیا جمعرات کی رات کو، اور سرعام اس کے خلاف جمعے کو بیان دے دیا؟‘

جواد ظریف نے بظاہر فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس کی جانب اشارہ کیا جنہوں نے جمعے کی صبح ایک بیان میں خبردار کیا کہ ان کا ملک ایک ’قابلِ اعمتاد معاہدہ‘ چاہتا ہے۔

مذاکرات کے اختتام پر فابیوس نے فرانس اٹر ریڈیو کو بتایا کہ ان کی حکومت ’بیوقوفوں‘ کا کھیل قبول نہیں کر سکتی۔

روسی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے بیان پر روسی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے منگل کو کہا اطلاع دی تھی کہ ’ناکامی میں ایران کا قصور نہیں تھا‘۔

اس ذریعے نے انٹر فیکس کو بتایا: ’ایران متفقہ مسودے پر خوش تھا مگر اس طرح کی بات چیت کے دوران فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے حتمی معاہدے پر پہنچنا ممکن نہیں تھا۔‘

جواد ظریف اس سب کے باوجود مذاکرات کے نتیجے میں اہم پیش رفت کے بارے میں پرامید تھے۔

جواد ظریف نے لکھا کہ ’ہم لوگ برابری کی بنیاد پر تعمیری بات چیت کے حق میں ہیں اور ایسی گفتگو جس سے مشترکہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔‘

جان کیری نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ جنیوا میں ’ہم حقیقی طور پر معاہدے کے بہت بہت قریب تھے۔‘

پیر کو فرانسیسی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری سے انکار کیا اور انکشاف کیا کہ ’ایسے بہت سارے مسائل تھے جن پر ایرانی حکام سے بات چیت کی ضرورت ہے‘ جن میں آراک کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ مذاکرات میں معاہدہ طے کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے سے مایوس نہیں ہیں اور ان میں تمام فریق معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں