فلپائن: ’متاثرین خوارک کی کمی کی وجہ سے بے صبر ہو رہے ہیں‘

Image caption ہیان طوفان کے بعد امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے

فلپائن میں ایک کانگریس مین نے خبردار کیا ہے کہ فلپائن کے طوفان زدہ علاقوں میں لوگ خوراک، پانی اور طبی ساز و سامان کے لیے بے صبر ہوتے جا رہے ہیں۔

متاثرہ صوبے لیتے سے تعلق رکھنے والے مارٹن روموالدیز نے کہا کہ ان علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے زیادہ پھرتی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ طوفان سے ایک کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور پونے ساتھ لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔

منگل کو آٹھ افراد اس وقت دیوار کے تلے دب کر ہلاک ہو گئے جب ایک ہزاروں افراد پر مشتمل ہجوم نے خوراک کے گودام پر ہلہ بول دیا۔

نیشنل فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پولیس اور سپاہی لوٹ مار کرنے والوں کو روکنے میں ناکام رہے، جنھوں نے لیتے کے ایک شہر الانگالنگ کے ایک سرکاری گودام سے چاول کی ایک لاکھ بوریاں لوٹ لیں۔

ادھر فلپائن کے صدر بنیگو اکینو نے کہا ہے کہ جمعے کو آنے والے سمندری طوفان سے ہونے والی اموات کی تعداد شاید خدشات سے کم ہو۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر بنیگو اکینو نے کہا کہ دس ہزار ’بہت بڑی تعداد` ہے البتہ سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی ممکنہ تعداد 2500 تک پہنچ سکتی ہے۔‘

اس کے علاوہ حکومت نے 1800 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

تاہم ذیلی سطح کے چند حکام نے صدر کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی اندازے درست ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے فلپائن کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ سمندری طوفان ہیان سے دس ہزار افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس طوفان سے ایک کروڑ دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ چھ لاکھ 73 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

امدادی کارروائیاں تیز کر دیں گئی ہیں لیکن بہت سے لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔

صدر بنیگنو اکینو نے کہا کہ سب سے پہلے ایک پولیس افسر اور ایک مقامی سرکاری اہلکار کی طرف سے سمندری طوفان سے دس ہزار افراد کی ہلاکت کی بات کی گئی جو اس تباہی کے درمیان موجود تھے اور انھوں نے شاید یہ تعداد ’جذباتی صدمے‘ کی حالت میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 29 قصبے ایسے ہیں جہاں ابھی تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے کہ وہاں پر متاثرین کی تعداد کا اندازہ ہو سکے۔

ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈزاسٹر اینڈ رِسک منیجمنٹ کونسل نے منگل کو بتایا کہ ہیان طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1798 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2582 زخمی اور 82 افراد لا پتہ ہیں۔

ادارے کے حکام کے مطابق طوفان سے 80 ہزار مکانات تباہ جبکہ تقریباً چھ لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے فلپائن میں طوفان سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کے لیے 30 کروڑ دس لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

لیتے جزیرے میں واقع دو لاکھ 20 ہزار کی آبادی پر مشتمل شہر ٹیکلوبان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جونتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ شہر سے ایئر پورٹ تک کا راستہ متاثرہ افراد سے بھرا پڑا ہے جو امداد کی کمی اور سکیورٹی حالات خراب ہونے پر برہم ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نہیں اٹھائی گئیں، مقامی حکومت ختم ہو چکی ہے اور مرکزی حکومت جس نے سب کچھ سنبھالنا تھا، نظر نہیں آ رہی۔

کئی مالک کے بحری جہاز امدادی کارروائیوں کے لیے علاقے میں موجود ہیں لیکن موسمی حالات امدادی اشیا کی تقسیم میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں میں انسانی فلاح اور ہنگامی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلری ایموس نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے لوگ انتہائی پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’انہیں خوراک، پانی اور گھر کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔‘

یہ فلپائن میں آنے والا اس سال کا شدید ترین طوفان تھا۔ طوفان سے وسیع پیمانے پر مچنے والی تباہی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی تعاون کی اپیل کے بعد امریکی اور برطانوی جنگی بیڑے فلپائن کا رخ کر رہے ہیں۔

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق فلپائن میں اس طوفان سے ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر ہوئے ہیں

فلپائن کے صدر نے طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔

دریں اثنا بڑے پیمانے پر عالمی امداد وہاں پہنچائے جانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن حکام کو متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے طوفان سے ہونے والی تباہی کی تصاویر کو ’دلدوز‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہ ہے کہ ’اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ قریب ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔۔۔ ہمیں اس موقعے پر فلپائن کے عوام کے ساتھ یکجہتی دکھانے کی ضرورت ہے۔‘

امدادی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ نے طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد کے مناظر کو مکمل افراتفری کا عالم قرار دیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پانی اور خوراک کے لیے بھیک مانگنے لگے ہیں اور زندگی بچانے کے لیے کوڑے سے کھانا اٹھا کر کھانے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں