امریکہ: پاکستانی پر شام کے ’جہاد‘ میں شامل ہونے کا منصوبہ رکھنے کا الزام

Image caption باسط شیخ کو دو نومبر کوگرفتار کیا گیا

امریکہ میں ایک پاکستانی شہری کو شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جہادی گروپ کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہونے کا منصوبہ رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 29 سالہ عبدالباسط جاوید شیخ پر الزام ہے کہ انھوں نے القاعدہ سے منسلک شامی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار جہادی گروپ میں شامل ہونے کا منصوبہ بنایا۔

ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے کہ انھوں نے بیرونی دہشت گرد تنظیم کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔

اے پی کے مطابق عبدالباسط شیخ کے والد جاوید شیخ نے منگل کو کہا کہ وفاقی حکومت نے ان کے بیٹے پر شام میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے کا غلط الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے امریکی سکیورٹی ادارے ایف بی آئی کی طرف سے اس بیان کو رد کیا کہ ان کا بیٹا جبہہ النصر نامی تنظیم میں شامل ہونا چاہتا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبدالباسط شیخ کو دو نومبر کو شمالی کیرولائنا میں جہاز پر سوار ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق عبدالباسط شیخ نے امریکی سکیورٹی ادارے ایف بی آئی کے ایک خفیہ اہلکار کو جبہہ النصر کا رکن سمجھ کر ان سے رابطہ کیا۔ امریکی محکمۂ خارجہ اس گروپ کو شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم سمجھتا ہے۔

باسط شیخ پر گذشتہ ہفتے شمالی کیرولائنا میں فردِ جرم عائد کی گئی۔ امریکی اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق باسط شیخ نے شام جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاکہ وہ وہاں’ کسی بھی طریقے سے مجاہدین کی مدد کرے۔‘

گذشتہ ہفتے عدالت میں سماعت کے دوران شیخ باسط کو اپنے دفاع کے لیے دو سرکاری وکلا کی خدمات حاصل تھیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکار جیسن ماسلو نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ اس سال پانچ مہینے تک عبد الباسط شیخ نے اپنے فیس بک کے صفحے پر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے شدت پسندوں کے حق میں پیغامات اور ویڈیوز شائع کیے۔

حلفیہ بیان کے مطابق اگست میں باسط شیخ نے اسلامی شدت پسندی کو فروغ دینے والے فیس بک کے صفحے پر ایف بی آئی کے ایک خفیہ اہلکار کے ساتھ تعلقات بنائے۔

حلفیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باسط شیخ نے ایف بی آئی کے اہلکار کو ستمبر کے اوائل میں بتایا تھا کہ انھوں نے ترکی جانے کے لیے ہوائی جہاز کا یک طرفہ ٹکٹ خریدا ہے اور امید ظاہر کی کہ وہاں ان کا ایسے لوگوں سے رابطہ ہو جائے گا جو انھیں شام لے جائیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ باسط شیخ نے کہا کہ وہ اس سفر پر اس لیے روانہ نہیں ہوئے کیونکہ وہ والدین کو چھوڑنے کی ہمت نہیں کر سکے۔

اس کے علاوہ ایف بی آئی کے اہلکار کے بیان کے مطابق باسط شیخ نے یہ بھی کہا کہ وہ گذشتہ سال شام کی لڑائی میں شامل ہونے کے لیے ترکی گئے تھے لیکن وہاں وہ اپنے آپ کو امریکہ کی حمایت یافتہ آزاد شامی فوج یا فری سیرین آرمی کا رکن بتانے والے افراد سے مایوس ہو گئے تھے۔

اگر عبدا لباسط شیخ پر جرم ثابت ہو جائے تو انھیں 15 سال تک جیل اور ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں