فرانس: ناقص بریسٹ امپلانٹ فراہم کرنے پر عدالتی فیصلہ متوقع

Image caption دنیا بھر میں 40ہزار خواتین نے پی آئی پی کے سپلائی کردہ ناقص امپلانٹ استعمال کیے تھے

فرانس کی ایک عدالت یہ فیصلہ سنانے والی ہے کہ آیا ایک جرمن کمپنی کو ناقص بریسٹ امپلانٹ فراہم کرنے پر ہزاروں خواتین کو زرتلافی ادا کرنا چاہیے۔

ٹی یو وی رینلنٹ نے بریسٹ امپلانٹ یا یعنی مصنوعی پستان فراہم کرنے والی دنیا کی ایک بڑی فرانسی کمپنی پی آئی پی کو 17 سال کے لیے یورپی حفاظتی سند جاری کی تھی۔

نامہ نگاروں کے مطابق عدالت نے اس کیس میں کمپنی میں معیار کو کنٹرول کرنے والے شعبے( کوالٹی کنٹرول) کے انچارج کو سنا، جس کے پاس صرف کھانے پکانے کا ڈپلوما تھا، جبکہ لیبارٹری کے انچارج نے پیسٹری تیار کرنے کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔

کمپنی نے بریسٹ امپلانٹ میں غیر معیاری سِلیکون کو استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے کئی امپلانٹ پھٹ گئے تھے۔

چار ہزار سے زائد خواتین نے امپلانٹ پھٹنے کی شکایت کی۔ صرف فرانس میں 15 ہزار خوتین نے پی آئی پی امپلانٹ کو تبدیل کرایا۔

ان امپلانٹس کے تقسیم کنندہ اور 17 سو خواتین نے ٹی یو وی رینلنٹ پر پانچ کروڑ یورو ہرجانے کے دعویٰ کیا ہے۔

بریسٹ امپلانٹ تیار کرنے والی کپمنی پی آئی پی نے امپلانٹ کی تیاری میں صنعتی گریڈ کا ممنوع غیر معیاری مادہ استعمال کیا تھا جس کے استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں خواتین کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

پی آئی پی کمپنی مارچ 2010 میں بند ہو گئی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 40 ہزار خواتین نے پی آئی پی کے سپلائی کردہ ناقص امپلانٹ استعمال کیے تھے۔

اس کمپنی کے بانی ژاں کلاؤد ماس پر بدعنوانی کے کیس میں کارروائی جاری ہے۔

انھوں نے پولیس کے انٹرویوز کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ’انھوں نے انسپکٹروں کے معائنے کے دوران اپنے ملازمین کو غیر قانونی سلیکون چھپا دینے کی ہدایت کی تھی۔‘

اس کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا کہ 70 فیصد امپلانٹ اس ناقص سلیکون سے تیار کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں