القاعدہ سے منسلک ایک گروہ نے غلطی سے اپنے ہی کمانڈر کا سر قلم کر دیا

Image caption کمانڈر کی شناخت کرنے والے گروہ کے ارکان

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے شام میں غلطی سے اپنے ہی ایک ساتھی کا سر قلم کرنے کے بعد معافی مانگی ہے۔

آن لائن پر شائع کی گئی ایک ویڈیو میں اسلامی ریاست آف عراق اور لیونٹ کے ارکان کو ایک کٹا ہوا سر اٹھائے دکھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا یہ شخص حکومت کی طرف سے لڑتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

لیکن باغیوں کے بعض ارکان نے یہ ویڈیو دیکھ کر اس کی شناخت کر لی اور کہا کہ جس شخص کا سر قلم کیا گیا ہے وہ تو ان کا اپنا ایک کمانڈر تھا۔

اس ویڈیو میں شام کے شہر حلب میں دو باغیوں کو ایک کٹا ہوا سر اور ہاتھ میں خنجر اٹھائے دکھایا گیا جس میں ہلاک ہونے والے کو وہ صدر اسد کی حکومت کا رضاکار قرار دے رہے تھے۔

ہر روز شامی حکومت اور باغیوں کی طرف سے تشدد اور بربریت کی کئی ویڈیوز شائع کی جاتی ہیں جن کا مقصد فریقِ مخالف کے حامیوں میں خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔

مذکورہ ویڈیو کو اس لیے زیادہ تشہیر ملی کیونکہ میں ِاس میں باغیوں کے ایک گروہ نے سر قلم ہونے والے شخص کو اپنے ہی ساتھی کے طور پر شناخت کر لیا۔

حرکت احرار الشام نامی ایک شدت پسند گروہ کا کہنا ہے کہ قتل کیا جانے والا شخص حکومت کا حامی نہیں تھا بلکہ ان کا اپنا ساتھی تھا۔

انھوں نے اس کا نام محمد فاریس بتایا اور کہا کہ وہ ان کا کمانڈر تھا۔

تفصیلات کے مطابق وہ ’بیس اسی‘ کے نام سے حلب میں ایک فوجی چوکی پر حلمے کے دوران زخمی ہو گیا تھا اور اس کو طبی امداد کے لیے باغیوں کے ایک کیمپ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ بعض لوگوں کو یہ خیال گزرا کہ وہ حکومت کے حامی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

فاریس نے جس انداز میں دعا مانگی اس سے باغی سمجھے کے وہ شیعہ ہے اور اس کا تعلق حکومت سے ہے۔

شام میں فرقہ وارنہ نفرت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بہت سے لوگ اس بربریت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اسلامی ریاست آف عراق اور لیونٹ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے اس غلطی کو تسلیم کیا ہے۔

اخبار کے مطابق انھوں نے پیغمبر اسلام کی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا کہ اللہ ان لوگوں کو معاف کر دیتا ہے جو غلطی سے کسی مسلمان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں