بچوں کی فحش تصاویر اور فلمیں دیکھنے اور بنانے پر سینکڑوں گرفتار

Image caption ٹورانٹو پولیس کی انسپکٹر جوانا بیون نے ایک پریس کانفرنس میں ان تحقیقات کے نتائج کے بارے میں بتایا

کینیڈا میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے 348 ایسے افراد کو تین سال پر محیط تحقیقات کے بعد گرفتار کیا ہے جو بچوں کی فحش تصاویر اور فلمیں بنانے اور دیکھنے یا فروخت کرنے کے کاروبار میں ملوث تھے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں چار سو کے قریب بچوں کو بھی اس گروہ کے چنگل سے نجات دلائی گئی ہے۔

ان تحقیقات کا مرکز ٹورانٹو میں قائم ایک فرم تھی جو مبینہ طور پر برہنہ بچوں کی ڈی وی ڈی فروخت کرتی تھی اور اسی نوعیت کی ویڈیوز آن لائن نشر بھی کرتی تھی۔

’ایزوو فلمز‘ ان فلموں کو فطرت پسندی یا نیچریت کہہ کر امریکہ اور کینیڈا میں فروخت کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق ان فلموں کو 94 ممالک میں فروخت کیا جاتا تھا۔

کینیڈا میں 108 گرفتاریاں ہوئیں، 76 گرفتاریاں امریکہ میں جبکہ 146 دوسرے ممالک میں ہوئیں۔ ان تحقیقات کو ’پراجیکٹ سپیڈ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

ٹورانٹو پولیس کی انسپکٹر جوانا بیون کا کہنا ہے کہ ایسے مشتبہ افراد جن کا بچوں کے ساتھ قریبی تعلق تھا ان کے بارے میں پولیس زیادہ تشویش کا شکار تھی۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدگان میں ڈاکٹر، سکول ٹیچر، سوتیلے ماں باپ اور پادری شامل ہیں۔

’ایووز فلمز‘ کے سربراہ ایک 42 سالہ کینیڈین شہری برائن وے ہیں جو مئی 2011 میں گرفتاری کے بعد سے حراست میں ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لوگوں کو بچوں کو فلمانے کے پیسے دیے اور انہیں اس کے 11 الزامات کا سامنا ہے۔ ان کی کمپنی کو بند کر دیا گیا ہے۔

ٹورانٹو پولیس سروس کے بچوں کے تحفظ کے شعبے نے ایووز فلمز کے ڈیٹا بیس سے متاثرین کی شناخت کی۔ اس کے بعد امریکی تفتیش کار ان تحقیقات کا حصہ بن گئے کیونکہ بہت ساری فلمیں امریکی پتوں پر بھجوائی جا رہی تھیں۔

سات مہینے بعد ٹورانٹو بھر میں چھاپے مارے گئے جن میں ایووز فلمز کی ملکیتی جگہ اور برائن وے کی ملکیتی جگہیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ان تحقیقات میں شامل دوسرے ممالک میں آسٹریلیا، سپین، میکسیکو، جنوبی افریقہ، ناروے، یونان اور رپبلک آف آئرلینڈ ہیں۔

مبینہ طور پر پولیس نے ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز بازیاب کروائی ہیں جن میں ’دہشت ناک جنسی عمل کا ارتکاب کیا گیا‘ بعض ایسے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی۔‘

ٹورانٹو پولیس کی اہلکار بیون نے کہا کہ کینیڈا کی پولیس کے اہلکار جب ایک سکول کے استاد کے گھر پر چھاپا مار رہے تھے تو انہیں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ تصاویر اور نو ہزار ویڈیوز ملیں جن میں بچوں کا جنسی استحصال کیا گیا تھا اور ان میں سے بعض بچوں سے یہ استاد واقف تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس استاد کو ایک رشتہ دار کے بچے کو جنسی استحصال کا شکار بنانے کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی محکمۂ ڈاک کے قائم مقام ڈپٹی چیف انسپکٹر جیرلڈ او فیرل نے بتایا کہ تمام شناخت شدہ بچے بلوغت کی عمر کے بھی نہیں تھے جبکہ بعض پانچ سال کی عمر کے تھے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بہت سے امریکی شہریوں کو ان تحقیقات میں شامل کیا گیا جن میں سے کئی نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔

جارجیا سے ایک سکول کے ملازم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے انہوں نے بچوں کے ساتھ جنسی استحصال پر مبنی مواد حاصل کیا اور انہوں نے سکول کے بچوں کے زیرِ استعمال ٹوائلٹ میں ایک خفیہ کیمرہ بھی نصب کیا۔

ایک پری سکول ٹیچر نے اپنے جرم کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اس وقت بچوں کی فحش فلمیں بنائیں جب وہ جاپان میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

جیرالڈ او فیرل نے بتایا کہ امریکی محکمۂ ڈاک کے انسپکٹروں نے ان تحقیقات کے سلسلے میں 330 بچوں کو اس جنسی استحصال کے چنگل سے نجات دلائی ہے۔

ٹورانٹو پولیس نے ویب سائٹ cybertip.ca کی مدد کا بھی ذکر کیا جو بچوں کے جنسی استحصال کی آن لائن رپورٹنگ کرتی ہے۔

اس ویب سائٹ کو ایووز فلمز کے بارے میں بہت سی شکایات موصول ہوئیں جن کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

اسی بارے میں