دولتِ مشترکہ کے خاتمے سے کیا فرق پڑے گا؟

Image caption کینیڈا، بھارت اور موریشس کے وزرائے اعظم نے اس سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کیا ہے مگر برطانوی ولی عہد اور وزیراعظم اس اجلاس میں شرکت کے لیے کولمبو میں ہیں

دولتِ مشترکہ میں شامل 53 ممالک کے سربراہان ہر دو سال بعد ایک سربراہی اجلاس میں جمع ہوتے ہیں۔ اس دفعہ چند ممالک کے سربرہان نے نے سری لنکا میں ہونے والے کامن ویلتھ کے سربراہی اجلاس سے کنار کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کینیڈا، بھارت اور موریشس کے وزرائے اعظم نے کہا کہ اس سال کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے اور ان کی بنیادی شکایت ہے کہ سری لنکا کے صدر مہندا راج پکشے کو اس جلاس کی میزبانی کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور انھیں آئندہ دو سال تک ایک ایسے ادارے کے چیئر پرسن کے طور پر ذمہ داریاں نہیں دینی چاہیے جو جمہوری روایات اور انسانی حقوق کی علم بردار ہے۔ ان ممالک نے سری لنکا کے صدر پر جمہوری روایات اور انسانی حقوق کو پامال کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

تاہم دیگر رہنما بائیکاٹ کے لیے دباؤ کے باوجود اس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون بھارت سے سری لنکا پہنچ گئے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ کو ایک غیر موثر تنظیم بنانے کی بجائے رابطے میں رہ کر سخت سوالات پوچھنا بہتر ہے۔

سری لنکا کی حکومت کے خلاف تمل اقلیت کی جانب سے بغاوت کی وجہ ان کے سکیورٹی فورسز پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں جن میں عام شہریوں کی ہلاکت، خواتین کا ریپ اور جنسی تشدد شامل ہے جو خاص کر سنہ 2009 کے آخری مہینوں میں تامل باغیوں کے جنگ کے دوران ہوئیں۔

Image caption دولتِ مشترکہ کے ایجنڈے میں اس بات پر بحث شامل ہے کہ جب 2015 میں اقوامِ متحدہ کے میلینیم ڈولپمنٹ گولز کے لیے رکھے گئے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی اہداف کا وقت ختم ہو جائے گا تو اس کی جگہ کس چیز کو لایا جائے

ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم میں مخالفین کو زبردستی ’لاپتہ‘ کرنا اور صحافیوں کا قتل شامل ہے۔

کولمبو کی حکومت ان تمام الزامات کو رد کرتی ہے جسے ملک کے وزیرِ اطلاعات کیہیلیا رامبوک ویلا نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں دہرایا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ عام شہری جنگ کا نشانہ نہ بنیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ تمل ٹائیگرز یا ایل ٹی ٹی ای نے جنھیں وہ ’دہشت گرد‘ کہتے تھے، ’عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کیا۔‘

برطانوی وزیر اعظم سری لنکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صحافیوں اور انسانوں حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنا بند کرے، تشدد کو ختم کرے، شمالی علاقوں سے فوج نکالے اور برادریوں کے درمیان ہم ہنگی پیدا کرنے کے لیے اقدمات کرے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی حکومت کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرانے کی ضرورت پڑے گی۔

سری لنکا کی حکومت نے ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ان پر نوآبادیاتی ذہنیت رکھنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ڈیوڈ کیمرون ایک خودمختار قوم کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت ان پر یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ وہ سربراہی اجلاس میں ایجنڈے کے طور پر ان مسائل پر بات کر کے کولمبو آنے کے دعوت نامے کا غلط استعمال کرنے کی کو شش کر رہے ہیں۔

دولتِ مشترکہ کے ایجنڈے میں اس بات پر بحث شامل ہے کہ جب 2015 میں اقوامِ متحدہ کے ’میلینیم ڈویلپمنٹ گولز‘ کے لیے اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ ترقیاتی اہداف کا وقت ختم ہو جائے گا تو اس کی جگہ کس چیز کو لایا جائے۔

Image caption بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر دولتِ مشترکہ ختم ہو جائے گی تو کیا کسی کو کوئی فرق پڑے گا؟

اس کی وجہ سے اجلاس کے دوران کوئی بھی سربراہ انسانی حقوق پر خدشات کا اظہار کر سکتا ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انسانی حقوق بشمولِ سیاسی و اظہار رائے کی آزادی کے بغیر غربت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر دولتِ مشترکہ ختم ہو جائے گی تو کیا کسی کو کوئی فرق پڑے گا؟

دولتِ مشترکہ کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ اس ادارے کی کامیابیوں کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ وہ جمہوریت اور انتخابات کے ضمن میں دولتِ مشترکہ کے سخت قوانین کی طرف اشارے کرتے ہیں۔

دولتِ مشترکہ کے مندوبین انتخابات میں ووٹنگ کےدوران دھاندلی کو کم یا ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دولتِ مشترکہ فوجی بغاوتوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔ 30 سال قبل دولتِ مشترکہ کے بہت سے رکن ممالک میں فوجی حکمران تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

بعض چھوٹے ممالک اس اجتماعی سیاسی قوت کو اہمیت دیتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات دولتِ مشترکہ کے فورم سے اظہار کر سکتے ہیں جبکہ اگر دولتِ مشترکہ نہ ہوتا تو ان کی آواز دب جاتی۔

دوسری جانب ناقدین دولتِ مشترکہ کی ناکامیوں کی فہرست لیے ہوئے ہیں جن میں رہنماؤں کے کیے وعدے پورے نہ ہونے اور ادارے کے بعض قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ کرنا شامل ہے۔

کولمبو میں سربراہی اجلاس کو غنیمت جان کر ناقدین نے اسے ادارے کی طرف سے اپنے ہی اصولوں پر نرمی برتنے کا ثبوت قرار دیا۔

دولت مشترکہ کا اس سال کا نیا چارٹر رہنماؤں پر زور دیتا ہے کہ ادارے کے اصولوں کی پابندی کریں۔ اس لیے موجودہ سربراہی اجلاس کو دولتِ مشترکہ کا اپنے اصولوں پر ٹکنے اور اس کے اجتماعی ارادے کے لیے آزمائش ہو گا۔

اسی بارے میں