نیلسن مینڈیلا تاحال بولنے سے قاصر

Image caption نیلسن مینڈیلا کو سمتبر میں ہسپتال سے گھر منتقل کیا گیا تھا

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک بولنے کے قابل نہیں ہیں تاہم وہ چہرے کے تاثرات سے اپنی بات پہنچا رہے ہیں۔

ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ونی میڈیکیزیلا مینڈیلا کا کہنا تھا کہ 95 سالہ مینڈیلا اب بھی بیمار ہیں، تاہم انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ انھیں مصنوعی طریقے سے زندہ رکھنے کے آلات پر رکھا گیا ہے۔

ستمبر میں نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث تقریباً تین ماہ ہسپتال میں گزارنے کے بعد گھر منتقل ہوئے تھے۔

جنوبی افریقہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

نیلسن مینڈیلا کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا ’ان کے پھیپھڑوں کو صاف کرنے کے لیے ان کے منہ سے نلکیاں گزاری گئیں جس کی وجہ سے اب وہ بات نہیں کر پا رہے۔‘

’وہ صرف چہرے کے تاثرات سے بات کر پاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی گویائی جلد واپس آ جائے گی۔‘

انہوں نے نیلسن مینڈیلا کے مشین کے سہارے زندہ رہنے کی خبروں کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ’وہ جراثیم کے حملے کے لیے اب بھی بہت حساس ہیں۔ اس لیے ان کو صاف ماحول میں رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کمرہ کسی آئی سی یو کی طرح ہے۔‘

گذشتہ دو برسوں میں 95 سالہ مینڈیلا پانچ بار ہسپتال میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل میں انہیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

اطلاعات کے مطابق نیلسن مینڈیلا کو پھیپھڑوں کا انفیکشن قید کے زمانے میں ہوا جہاں انہوں نے تقریباً 30 سال گزارے تھے۔

نیلسن مینڈیلا سنہ 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے۔ انہوں نے سنہ 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

مینڈیلا کو فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں