عرب امارات: ’مقدے کے بارے میں ٹویٹ‘ کرنے پر قید

Image caption متحدہ عرب امارات میں انٹرنیٹ پر حکومت پر تنقید کرنے کے سلسلے میں قوانین بہت سخت ہیں

متحدہ عرب امارات میں کارکنوں کے مطابق ایک شخص کو اپنی ٹویٹس میں ’قومی سلامتی کی خلاف ورزی‘ کرنے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اجمان سے تعلق رکھنے والے انٹرنیٹ پر سرگرم کارکن ولید الشاہی کو 137,00 امریکی ڈالر جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

انہیں رواں برس مئی میں 94 افراد کے اس مقدمے کے بارے میں ٹویٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تھی۔

ان میں سے 68 افراد کو جولائی میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا تھا کہ اس قسم کی سزاؤں سے متحدہ عرب امارات میں رائے کے اظہار کی آزادی کے حوالے سے عدالتی نظام پر سوال اٹھتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے ان افراد کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے کا واحد ثبوت ان میں سے ایک شخص کا مبینہ اعتراف تھا، جس نے بعد میں عدالت میں تمام الزامات سے انکار کر دیا تھا۔

اماراتی سینٹر فور ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ ولید الشاہی کو مئی میں گرفتار کیے جانے کے بعد ابو ظہبی منتقل کرنے سے قبل دس دنوں تک ایک خفیہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

ادارے کے مطابق انہوں نے ’ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ان 94 افراد کے مقدمے پر سوال اٹھایا تھا اور ان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں ان کے مطابق ملک میں جمہوری اصلاحات کی حمایت کی وجہ سے حراست میں رکھا گیا ہے۔‘

گذشتہ نومبر میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں انٹرنیٹ پر حکومت پر تنقید کرنے کے قوانین میں بھی سختی کی گئی تھی۔

اس حکم نامے سے ایسے اقدامات کو قانونی شکل ملتی ہے جن کے تحت ایسے کسی بھی شخص کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے یا اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے سینیئر حکام، سیاسی اصلاحات کی حمایت یا مظاہروں کا انعقاد کرے۔

اسی بارے میں