جاہل ملاّ لوگوں کو غلط سمت میں لے جاتے ہیں: المزبیک اتم بایف

Image caption لوگوں کو محدود علم رکھنے والے افراد کی پیروی نہیں کرنی چاہیے: المزبک اتم بایف

وسط ایشیائی ریاست کرغزستان کے صدر المزبیک اتم بایف نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر شدت پسند اور انتہاپسند عناصر کی مضبوطی کی وجہ ایسے افراد کا امام بن جانا ہے جنہیں دین کی سمجھ نہیں۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کرغز صدر نے کہا کہ لوگ مذہب اور ثقافت کے فرق کو نہیں سمجھتے اور اسلام کو سمجھنے کے لیے اس سے پہلے آنے والے مذاہب کو سمجھنا ضروری ہے۔

صدر اتم بایف کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اسلام کے نام پر شدت پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی جانب رجھانے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور وہ اس معاملے کو آئندہ ماہ سلامتی کونسل میں بھی اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو یا تو ان پڑھ ہیں یا پھر انہوں نے صحیح تعلیم حاصل نہیں کی اور انہیں دینِ اسلام کی سمجھ نہیں، امام بن گئے ہیں۔

کرغز صدر کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے، بطورِ مذہب اس کے مختلف حصے ہیں اور ’جاہل ملاّ لوگوں کی صحیح رہنمائی نہیں کرتے اور انہیں غلط سمت میں لے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کچھ مذہبی رہنماؤں کو سائنس یا انٹرنیٹ کے بارے میں بہت معمولی علم ہے اور لوگوں کو ایسے محدود علم رکھنے والے افراد کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔

انتہاپسند خیالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والے طالبہ ملالہ یوسفزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسے عناصر خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں اور ایک لڑکی پر گولی چلانے سے دریغ نہیں کرتے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسلام اور قرآن خواتین کے بارے میں کیا کہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ خواتین کے بارے میں اسلام کی اصل تعلیمات تو یہ ہیں کہ پیغمبرِ اسلام نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ ’جو والدین دو بچیوں کی پرورش کریں گے تو وہ جنت میں جائیں گے۔ ذکر وہاں دو لڑکیوں کا ہوا ہے لڑکوں کا نہیں۔‘

المزبک اتم بایف کا یہ بھی کہنا تھا کہ دین اور ثقافت ایک چیز نہیں ہے اور لوگ مذہب اور ثقافت میں تمیز نہیں کر پاتے جو کہ صحیح نہیں: ’کچھ لوگوں کے خیال میں مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا لباس عربی یا پاکستانی ہو۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔‘

کرغز صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں ملک کے صدر کو اپنے عوام کے لیے مثال بننا چاہیے کیونکہ اگر لوگ اپنے اصل رہنما کی پیروی نہیں کریں گے تو شدت پسند ان کی قیادت سنبھال لیں گے۔

اسی بارے میں