’امریکہ افغانستان سے معافی نہیں مانگے گا‘

Image caption جان کیری نے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے افغانستان کو ایک خط لکھنے کی پیشکش کی تھی

امریکہ میں قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں گذشتہ بارہ سال کے دوران کی گئی غلطیوں پر معافی نہیں مانگے گا۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے سوزن رائس نے ان افغان حکام کے حوالے سے آنے والے ان اطلاعات کو رد کر دیا جن میں عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکی حکومت نے ایک خط تیار کیا ہے جس میں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور جو جمعرات کو افغان عمائدین کو پیش کیا جائے گا۔

اس سے پہلے ایسی اطلاعات تھیں کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان سلامتی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے جان کیری نے ایک خط بھیجنے کی پیشکش کی تھی جس میں وہ امریکی کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو تسلیم کریں گے اور اس خط کو افغان عمائدین کے جرگے کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

لیکن امریکی قومی سلامتی کی مشیر نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے معافی نہیں مانگے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو افغانستان سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

سوزن رائس نے کہا کہ ’ہم نے ان کے جمہوری عمل کی حمایت کی اور شدت پسندی اور القاعدہ سے نمٹنے میں قربانیاں دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’معافی مانگنے کے لیے نہ تو کوئی خط تیار کیا گیا ہے اور نہ بھیجا گیا ہے اور ایسی کوئی بات نہیں۔‘

کابل میں حکام نے کہا تھا کہ صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے منگل کو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے افغان امریکہ سلامتی معاہدے میں بنیادی متنازع نکات کو حل کیا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے تحت امریکی افواج سنہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکیں گے۔

اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی نے پیر کو امریکہ کے ساتھ باہمی سلامتی کے ایک اہم منصوبے کی ایک شق پر اعتراض کرتے ہوئے اُسے مسترد کردیا تھا۔

اُس شق کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی نیٹو افواج افغانیوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی لینے کا حق رکھتی تھیں۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سفارت کار گزشتہ بارہ سالوں کے دوران افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے غیر متوقع تبدیلیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق افغانستان کی جانب سے امریکی افواج کو عام شہریوں کے گھروں میں داخلے کی اجازت اس معاہدے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جو امریکی افواج کو افغان شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ گزشتہ ماہ اس معاہدے کے حوالے سے بات چیت کی تھی جس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے پر ہونے والے اختلافات کو ختم کر لیں گے تاہم اس ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں