اٹلی: طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 16

Image caption ایک حادثے میں ایک ماں اور اس کی ایک بیٹی اپنی گاڑی میں مردہ پائی گئیں

اٹلی کے جزیرے سارڈینیا میں حکام کے مطابق طوفان اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق سیلاب کی وجہ سے متعدد افراد لاپتہ ہو گئے جبکہ سیلاب کا پانی دریاؤں کے کناروں کو توڑتا ہوا بہت سی گاڑیوں کو بہا لے گیا ہے۔

سب سے زیادہ نقصان شمال مشرقی شہر اولبیا میں ہوا جہاں سینکڑوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینی پڑی ہے۔

ملک کے وزیرِ اعظم انریک لیٹا نے ’قومی سانحے‘ کی بات کی ہے اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان ہے۔

بحیرۂ روم کے اس جزیرے سے سینکڑوں افراد کو ’قلوپطرہ‘ نامی اس طوفان کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے۔

سارڈینیا کے گورنر کاپیلاکسی نے اطالوی ٹی وی کو بتایا کہ جزیرے پر’ڈرامائی‘ صورتِ حال ہے۔

سکائی ٹی جی 24 چینل نے اولبیا کے میئر گیانی گیووانیلی کے حوالے سے بتایا کہ شہر ’تباہ کن‘ سیلاب کی زد میں رہا ہے۔

بحیرۂ روم میں سیلاب کم ہی آتے ہیں۔

سارڈینیا کی سول پروٹیکشن اتھارٹی کے اہلکار نے اٹلی کے رائی ٹی وی کو بتایا کہ وہ ہر ممکنہ سطح پر چوکنا ہیں۔

Image caption مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسی صورت حال کبھی نہیں دیکھی: ’یہ شاید صدیوں میں پیش آنے والی بد ترین صورتِ حال ہے۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق ایک پل کے ٹوٹ کر گرنے کے واقعے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک دوسرے حادثے میں ایک ماں اور اس کی ایک بیٹی اپنی گاڑی میں مردہ پائی گئیں۔ سیلاب ان کی گاڑی کو بہا لے گیا تھا۔

مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

ایک اور برازیلی خاندان کے گھر کے تہہ خانے میں پانی بھرنے کی وجہ سے دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

چند مقامی شہریوں نے سوشل میڈیا کی مدد سے اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور افراد کو مدد کی پیشکش کی ہے۔

طوفان اور سیلاب کی وجہ سے متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئي ہیں۔

اسی بارے میں