ایران میں افغان مہاجرین زیادتیوں کا شکار ہیں: ہیومن رائٹس واچ

Image caption ایران کے محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں دو تہائی افغان مہاجرین غیر قانونی ہیں۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایران پر افغان مہاجرین کے حقوق کی پاسداری نہ کرنے اور انھیں زیادتیوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران سے ہزاروں افغان مہاجرین کو وہاں رہنے کے حق کے بارے میں ان کا مدعا سنے بغیر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’حالیہ سالوں میں ایرانی حکام نے افغانیوں کو مہاجر یا دوسری حیثیت سے ایران میں رہنے کے لیے قانونی راستے محدود کر دیے ہیں جب کہ افغانستان میں حالات بد تر ہو گئے ہیں۔‘

ایران کے محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں دو تہائی افغان مہاجرین غیر قانونی ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو کے مشرقِ وسطیٰ ڈویژن کے جو سٹارک نے کہا کہ ’ایران ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو ایک ایسے ملک میں زبردستی بھیج رہے ہیں جہاں حقیقی اور سنگین خطرہ موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایران کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو افغان سرحد پر پھینکنے کے بجائے ان کے پناہ گزین بننے کے دعووں کو سنے۔‘

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انسانی حقوق کی پامالی کے ایسے ثبوت موجود ہیں جس میں افغان مہاجرین کو جسمانی اذیت دینا، انھیں گندے اور غیر انسانی حالات میں رکھنا، جبری مشقت اور خاندانوں کو جدا کرنا شامل ہے۔

سالانہ ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین ایران میں داخل ہوتے ہیں اور تقریباً 24 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی وہاں رہائش پذیر ہیں۔

گذشتہ سال ایرانی حکومت نے ایک ایسا قانون پاس کیا تھا جس کے تحت ملک کے تین صوبوں میں افغانیوں کو رہنے کی اجازت دینے کو محدود کر دیا گیا تھا۔

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ نومبر میں ایران نے عارضی پرمٹ پر رہنے والے تین لاکھ افغانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس حکم پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا کہ ایرانی حکومت کی پالیسیوں کے باعث بہت سے بغیر دستاویزات کے افغان بچے سکول نہیں جا سکتے اور جن لوگوں کی مہاجر کی حیثیت تسلیم کی جاتی ہے، وہ کم ’معاوضے پر سخت‘ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے ایران میں تارکینِ وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کے خلاف خبردار کیا ہے جس کی وجہ سے افغان مہاجرین کے خلاف تشدد کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسی بارے میں