سعودی عرب: چلتے پھرتے لوگوں کو گلے لگانے پر دوگرفتار

Image caption یو ٹیوب پر وڈیو دیکھ کر دو سعودی نوجوانوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے ملک کے لوگوں کو بھی گلے لگا کر خوش کیا جائے

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پولیس نے دو ایسے نوجوانوں کو نقصِ امن کے تحت گرفتار کیا ہے جو راہ گیروں کو گلے لگاتے پھرتے تھے۔ تاہم ان سے ایک عہد نامے پر دستخط کرانے کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا۔

سعودی عرب کی مذہبی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ان دو افراد کو امن عامہ میں خلل ڈالنے اور عجیب و غریب حرکتوں میں ملوث ہونے پر حراست میں لیا۔

آتے جاتے لوگوں کو گلے لگانے کی تحریک کا مقصد لوگوں کی زندگیوں میں تھوڑی بہت خوشی لانا ہے۔

ایک سعودی نوجوان بندر السوید نے یو ٹیوب پر اپنی ایک وڈیو رکھی ہے جس میں وہ اجنبیوں کو گلے لگانے کی پیشکش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس وڈیو کو تقریباً 15 لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے۔

اس نوجوان نے ’العربیہ نیوز‘ کو بتایا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں لوگوں کو گلے لگانے کی مہم دیکھ کر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنے ملک میں ایسا ہی کریں گے: ’مجھے یہ تصور بہت اچھا لگا اور میں نے سوچا کہ سعودی عرب میں ایسا کرنے سے میرے ملک کے لوگ بھی خوش ہوں گے۔‘

برطانوی اخبار ’انڈی پینڈینٹ‘ نے خبر دی ہے کہ اس وڈیو کو دیکھ کر دیگر دو سعودی نوجوانوں عبدالرحمان الخیال اور ان کے دوست کے دل میں بھی لوگوں کو گلے لگا کر خوش کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔

پھر کیا تھا دونوں دوست ہاتھوں میں اشتہار اٹھائے دارالحکومت ریاض کی ایک مصروف ترین سڑک پر آپہنچے اور انھوں نے چلتے پھرتے لوگوں کو گلے لگانے کی پیشکش کرنا شروع کر دی۔

لیکن سعودی سلطنت کی مذہبی پولیس نے بھی وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگائی۔ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے فروغ کے کمیشن نے جس کا کام شرعی قوانین کا اطلاق کو یقینی بنانا ہے، دونوں دوستوں کو دھر لیا۔

دونوں سے ایک عہد نامے پر دستخط کرائے گئے کہ وہ آئندہ اس طرح لوگوں کو گلے لگانے کی پیشکش نہیں کریں گے۔

مذہبی پولیس کی ذمہ داریوں میں سعودی خواتین کو ڈرائیونگ سے روکنا، یہ دیکھنا کہ لوگوں نے مناسب لباس پہن رکھا ہے یا نہیں، عوامی تفریح پر پابندیاں عائد کرنا اور یہ یقینی بنانا کہ نماز کے پانچوں اوقات میں دکانیں بند ہیں یا نہیں، وغیرہ شامل ہیں۔

سعودی عرب میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس ان کی زندگیوں میں بے جا مداخلت کرتی ہے۔

مذہبی پولیس پر 2002 میں اس وقت تنقید ہوئی تھی جب مکے کے ایک سکول میں آگ لگنے سے 15 لڑکیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔ وہاں پر موجود پولیس پر الزام لگا تھا کہ اس نے سکول کی جلتی ہوئی عمارت سے لڑکیوں کو محض اس لیے باہر نہیں آنے دیا تھا کہ لڑکیوں نے سعودی خواتین کے لیے لازمی سیاہ پوشاک نہیں پہنی ہوئی تھی۔