پیسے کی خاطر کونڈم کے استعمال سے انکار

Image caption کینیا میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی بڑی تعداد کے باوجود کچھ سیکس ورکر غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں اور انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل ادویات استعمال کرتی ہیں

کینیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ ہے اور ہر سال تقریبا ایک لاکھ نئے لوگوں کو یہ انفیکشن ہو جاتا ہے۔

اس کے باوجود کچھ سیکس ورکر غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں اور انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل ادویات استعمال کرتی ہیں۔

نیروبی کے كوروگوچو کی جھونپڑیوں میں گذشتہ چھ سال سے رہنے والی سیکس ورکر شیلا کا کہنا ہے کہ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ہم میں سے زیادہ تر کونڈم کیوں نہیں استعمال کرتیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اور جب آپ کسی ایسے گاہک سے ملتے ہیں، جو معمول سے زیادہ پیسہ دینے کی پیشکش کرتا ہے تو بغیر تحفظ کے جنسی تعلقات قائم کرنا پڑتا ہے۔ بھلے ہی آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہے یا نہیں۔‘

شیلا کہتی ہیں کہ وہ اور دیگر سیکس ورکرز اگلی صبح معائنے کے لیے جاتی ہیں اور اینٹی ریٹرو وائرل ادویات لیتی ہیں، جو وائرس کو دبا دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سیکس ورکر اس دوا کو کونڈم کی طرح استعمال کرتی ہیں۔

ویسے اس دوا کا استعمال ہنگامی حالت میں کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ دوا جسے ’پوسٹ ایکسپوژر پروفائلیکسس‘ یا پیپ کہا جاتا ہے، جنسی زیادتی کا شکار کسی خاتون کو دی جا سکتی ہے جہاں خیال ہوتا ہے کہ ملزم ایچ آئی وی انفیکشن میں مبتلا رہا ہوگا۔

Image caption اس بارے میں کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ یہ دوا کتنی موثر ثابت ہوتی ہے

اس بارے میں کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ یہ دوا کتنی موثر ثابت ہوتی ہے۔ کچھ کلینک سال میں ایک بار ہی یہ دوا اپنے مریضوں کو دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دوا اگر آسانی سے دستیاب ہو تو پھر سیکس ورکرز کونڈم کا استعمال کرنا بند کر دیں گی۔

لیکن یہ سختی 24 سالہ پامیلا کو گذشتہ سال چار بار پیپ کا استعمال کرنے سے نہیں روک پائی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک رات میں نے خوب شراب پی رکھی تھی اور غیر محفوظ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ اگلی صبح میں ’پیپ‘ لینے کے لیے پرانے کلینک نہیں گئی بلکہ ایک اور کلینک میں چلی گئی جہاں میرا کوئی ریکارڈ نہیں تھا اور میں نے جھوٹ بولا کہ مجھے غیر محفوظ جنسی کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے ضمنی اثرات کی وجہ سے اس دوا کی پوری خوراک نہیں لی۔ انہوں نے کہا کہ دوا لینے پر آپ کو اچھا محسوس نہیں کرتے اور قے آنے لگتی ہے اور آپ اپنے کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اسے لینا بند کر دیا۔

اقوام متحدہ کے ایڈز پروگرام کے سینئر سائنس مشیر پیٹر گاڈفری فوسے کا کہنا ہے کہ سیکس ورکرز کے لیے اس دوا کی افادیت ہے مگر صرف اس صورت میں جب اس کا صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔

Image caption اس دوا کو ’پوسٹ ایکسپوژر پروفائیلیکسس‘ یا پیپ کہا جاتا ہے۔ یہ جنسی زیادتی کا شکار کسی خاتون کو دی جا سکتی ہے جہاں خیال ہوتا ہے کہ ملزم ایچ آئی وی انفیکشن میں مبتلا رہا ہوگا

انہوں نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ زیادہ تر سیکس ورکرز کی طرف سے کونڈم استعمال کرنے کے باوجود اب بھی ایچ آئی وی کے کیسز کی تعداد کافی زیادہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتِ حال میں ’پیپ‘ کا استعمال غلط ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ سیکس ورکرز کے لیے ایک اور دوا زیادہ بہتر ہے جسے ’پری ایکسپوژر پروفائیلیکسس‘ یا ’پریپ‘ کہا جاتا ہے جو ایچ آئی وی کا سامنا کرنے سے پہلے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

امریکہ میں ایک سال کے لیے ’پریپ‘ کی خوراک 14 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے، تاہم کم آمدنی والوں کو یہ کم قیمت میں ملتی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں اس دوا کی سستی اقسام دستیاب ہیں جن کی قیمت تقریباً 150 ڈالر سالانہ پڑتی ہے۔

اسی بارے میں