لٹویا: سپر مارکیٹ کا انہدام ’قتل‘

Image caption امدادی کارکن بھاری مشنیری کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں

لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں جمعرات کو سپر مارکیٹ کے انہدام کے بعد ملک کے صدر نے اس واقعے کو ’قتل‘ قرار دیا ہے۔

صدر آندریس برزنس کا کہنا ہے کہ کئی لوگ مارے گئے جو خود کو اس حادثے سے بچا بھی نہیں سکتے تھے اور اس کی تحقیقات اسی طرز پر کی جانی چاہییں۔

تاحال سپر مارکیٹ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد باون بتائی جا رہی ہیں تاہم دس خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ دار لاپتہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شاید دکانوں کی اوپری چھت پر بنے باغیچے کی مٹی اس عمارت کے انہدام کی وجہ بنا ہے۔

جمعرات کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد لٹویا میں تین دن کا سوگ ہے۔

لٹویا کے صدر نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس مقدمے کو قتل کے مقدمے کی طرح چلایا جائے جس میں کئی غیر محفوظ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جس قدر تیزی سے ممکن ہو کی جائیں۔

لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں جمعرات کو منہدم ہونے والی سپر مارکیٹ کے ملبے سے مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 52 ہوگئی ہے جبکہ متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

’میکسیما‘ گروپ کی اس مارکیٹ کے ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کی تلاش کرنے والے امدادی کارکنوں کے مطابق اب لوگوں کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔

یہ سپر مارکیٹ 2011 میں کھلی تھی اور بظاہر اس مارکیٹ کی چھت پر باغیچے کی تعمیر کے لیے لائی گئی مٹی کا وزن چھت گرنے کی وجہ بنا۔

امدادی کارکن عمارت کے ملبے میں موجود کنکریٹ کاٹ کر ہٹا رہے ہیں اور بھاری ٹکڑے ہٹانے کے لیے کرینوں سے مدد لی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اب تک اس ملبے سے 52 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور 1991 میں آزادی کے بعد یہ ملک میں ہونے والا سب سے مہلک حادثہ ہے۔

اس حادثے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے33 اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

Image caption ہلاک شدگان کی یاد میں شمعیں روشن کی گئی ہیں

ریگا میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بہت سے لوگ اب ہلاک ہونے والوں کی یاد میں جائےحادثہ پر پھول رکھ رہے ہیں اور شمعیں روشن کر رہے ہیں۔

لٹویا کی حکومت نے اس حادثے پر سنیچر سے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کو لٹویا کے وزیرِ داخلہ نے جائے حادثہ کا معائنہ کر نے کے بعد کہا کہ انہوں نے اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے جو کہ عمارت میں تعمیراتی قواعد کی خلاف ورزی کے بارے میں ہے۔

انہوں نے لیٹوین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ عمارت میں تعمیراتی قواعد کے معاملے میں خلاف ورزیاں ہوئی ہیں‘۔

فوج نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ساٹھ سے زیادہ فوجی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

جب عمارت کی چھت گری تو اس میں بڑی تعداد میں صارفین خریداری میں مصروف تھے۔

Image caption جب عمارت کی چھت گری تو اس میں بڑی تعداد میں صارفین خریداری میں مصروف تھے

عینی شاہدین نے بتایا کہ جب عمارت گری تو امدادی کارکن لوگوں کو نکالنے کے لیے اندر گئے اور اس دوران عمارت کی چھت گر گئی اس سے امدادی کارکن عمارت میں پھنس کر رہ گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب عمات کی چھت گری تو خریداروں نے عمارت سے نکلنے کی کوشش کی مگر وہ عمارت کے الیکٹرانک دروازوں کی وجہ سے اندر ہی پھنس گئے۔

چھت گرنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے مگر بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمین میک گینیز نے کہا کہ اس کی ممکنہ توجیع یہ ہو سکتی ہے کہ عمارت کی چھت پر لگائے جانے والے باغیچے کے لیے جمع کی گئی مٹی کے وزن سے عمارت کی چھت زمیں بوس ہو گئی۔

اسی بارے میں