جوہری معاہدہ: ایرانی صدر کا خیرمقدم، اسرائیل ناراض

Image caption ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایرانی جوہری پروگرام پر ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہوگی جبکہ اسرائیل نے اسے تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا پابند نہیں۔

کیا ایران کی شبیہ تبدیل ہو گی: آڈیو

ایران سے معاہدے پر اسرائیل ناراض: آڈیو

معاہدے سے ایران کی کتنی بڑی کامیابی؟: آڈیو

ایران کے خلاف مزید پابندیاں نہ لگائیں: اوباما

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر سنیچر کی رات معاہدہ طے پا گیا۔

اس معاہدے کے تحت جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔

یہ معاہدہ سوئس شہر جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پایا ہے اور یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کیتھرین ایشن کا کہنا ہے کہ یہ جامع حل کی جانب ’پہلا قدم‘ ہے۔

معاہدہ طے پانے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران میں ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا حق ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ جاری رکھے۔

انہوں نے کہا ’اِس کی جیسے بھی تشریح کی جائے لیکن اِس معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ ایران اپنا افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا۔ اور اِس مقصد کے لیے میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔‘

ایرانی صدر نے ایک بار بار پھر دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ایرانی کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ یہ عبوری معاہدہ مستقبل میں مزید بہتری کے لیے حالات ساز گار کرے گا۔

صدر روحانی کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا کہ کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو دیگر ممالک کے بے جا مطالبات کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کے اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے معاہدے کو پہلا اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا مزید محفوظ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا اس میں ’ٹھوس حدود شامل ہیں جو کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری سے باز رکھیں گی۔‘

معاہدہ طے پانے کے فوری بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ اس تعمیری معاہدے نے نئے افق کھول دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف اس لیے ممکن ہوا کہ ایرانی عوام کے انتخابات میں اعتدال پسندی کو چُنا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام اور اقوام کے لیے تاریخی موقع ہے۔

جنیوا میں موجود ایران کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہائی میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والا سب سے اہم سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔

معاہدے کے بعد سنیچر کو رات گئے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ معاہدے کی بدولت کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایران کا جوہری پروگرام روک دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مطلب یہ ہےکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید ترقی نہیں دے سکے گا اور کچھ پہلوؤں سے اس پروگرام کو سکیڑا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں کمی کرنے اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیوں میں بتدریج کمی کی جائے گی۔

واشنگٹن نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران نے جن رعایتوں کا وعدہ کیا ہے اس سے ایران کے جوہری پروگرام کی شفافیت بڑھے گی اور اس کی زیادہ قریب سے نگرانی ہوسکے گی۔

ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں