فضائی حدبندی کی مخالفت پر چین کا امریکہ اور جاپان کو انتباہ

Image caption امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا چین کے اس یک طرفہ عمل میں غلط فہمی اور غلط تخمینے کا خطرہ پنہاں ہے

چین نے شمال مشرقی بحیرۂ چین میں اپنے ’فضائی دفاعی علاقے‘ کی حد بندی کے خلاف امریکی اور جاپانی اعتراضات پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ متنازع ہے اور ان میں وہ جزائر بھی شامل ہیں جن پر جاپان بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ اس بابت انھوں نے چین میں امریکی اور جاپانی سفارت خانوں میں باضابطہ شکایت درج کی ہے۔

بحیرۂ چین میں ایسے جزائر بھی شامل ہیں جن پر جاپان کی عمل داری اور دعویداری ہے جب کہ چین کا کہنا ہے کہ جو جہاز بھی اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے اس کے قوانین کی پابندی کرنی ہوگی یا چین کی طرف سے ’ایمرجنسی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہوگا۔

امریکی وزیر دفاع چگ ہیگل نے اسے ’علاقے کے موجودہ توازن کو بگاڑنے کی کوشش‘ سے تعبیر کیا تھا۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اس یک طرفہ عمل میں غلط فہمی اور غلط تخمینے کا خطرہ پنہاں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’چین کے اس اعلان سے علاقے میں امریکی فوجی آپریشنز میں تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

دوسری جانب جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے اسے ’انتہائی خطرناک عمل‘ کہا جس کے ’خراب اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے پیر کو کہا: ’جاپان چین سے اپنے آپ پر قابو رکھنے کے لیے کہے گا جب کہ ہم لوگ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔‘

متعلقہ فضائی حدود میں چین کی عمل داری مقامی وقت کے مطابق سنیچر کو دس بجے شروع ہوئی۔

چین کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی ہوائی جہاز کو اس علاقے میں اپنی پرواز کا منصوبہ لازمی دینا ہوگا، اور اسے ریڈیو کے ذریعے دو طرفہ رابطہ رکھنے اور’اپنی شناخت کے بارے میں سوالات‘ کے بر وقت اور صحیح جوابات دینا ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جو جہاز اپنی شناخت کے حوالے سے عدم تعاون کا مظاہرہ کریں گے یا پھر ہدایات پر عمل پر نہیں کریں گے تو ان کے خلاف چینی فوج ایمرجنسی دفاعی اقدامات کرے گی۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے اپنی ویب سائٹ پر ایک نقشہ شائع کیا ہے جو مشرقی بحیرۂ چین کے وسیع علاقے پر پھیلا ہوا ہے جس میں جنوبی کوریا اور جاپان کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔

Image caption شنزو آبے نے کہا کہ جاپان چین سے اپنے آپ پر قابو رکھنے کے لیے کہے گا جبکہ ہم لوگ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے

چین میں وزارتِ دفاع کے ترجمان یانگ یجونگ نے ملک کی سرکاری ویب سائیٹ پر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ چین کی طرف سے اس علاقے کی فضائی حد بندی کا مقصد ملک کی خودمختاری، زمینی اور فضائی سکیورٹی قائم کرنا اور پروازاوں کو ترتیب میں رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم پرزور انداز میں جاپان سے کہتے ہیں کہ وہ ایسے تمام اقدامات سے باز رہے جو چینی خطے کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پرہیز کرے جو بین الاقوامی آرا کو گمراہ کرتے ہوں اور علاقے میں کشیدگی کا باعث ہوں۔‘

گذشتہ سال چین نے جاپان کی جانب سے مشرقی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزائر نجی مالکان سے خریدے جانے کے بعد جاپان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنا رویہ ٹھیک کرے اور چین کی خود مختاری میں مداخلت نہ کرے۔

جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک دعویٰ ہے اور یہ باعثِ تنازع رہے ہیں۔

گذشتہ سال ہی دونوں ممالک کے درمیان ان جزیروں کی وجہ سے بحری جنگ شروع ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں