ایران سے معاہدے پر اسرائیل، عرب ریاستیں فکرمند

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین جوہری پروگرام پر ابتدائی معاہدے سے ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دور ہو گیا ہے۔

سنیچر کو ہونے والا یہ معاہدہ گذشتہ دس سالوں سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر جاری بات چیت میں اہم پیش رفت ہے۔

جوہری معاہدے سے اہم مذاکرات کی بنیاد

تاہم اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اپنے حریف ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کے معاہدے کے بعد جشن کی تصاویر تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

تاہم معاہدے پر تمام بیانات اشتعال انگیز نہیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ معاہدہ خطے میں استحکام کا سبب بنے گا جبکہ بحرین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارا خوف کم کرے گا، چاہے ایران ہو یا دیگر ممالک۔‘

لیکن دیگر ملک معاہدے پر مثبت رائے نہیں رکھتے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کا اصرار ہے کہ معاہدہ تاریخی غلطی ہے اور یہ دنیا کو مزید خوفناک جگہ میں تبدیل کر دے گا۔

سعودی عرب کے خارجہ امور کے ایک مشیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کے معاہدے سے ایران کو خطے میں مزید کھلا راستہ مل جائے گا۔

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد اسرائیل اور دیگر عرب ریاستیں (جہاں بادشاہت ہے) ایران کو بڑا خطرہ تصور کرتی ہیں۔ ایران نے اسرائیل مخالف تنظیموں کو مالی مدد اور جدید ہتھیار فراہم کیے ہیں جن میں سب سے طاقتور لبنان کی تنظیم حزب اللہ ہے۔

عرب ممالک کا موقف ہے کہ سنی ریاستوں میں غیر موثر شیعہ برادریوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ سنی اکثریتی ریاستوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

زخموں پر نمک

Image caption ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر سعودی عرب اور اسرائیل میں تعاون کو فروغ مل سکتا ہے

2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے بعد عراق ایران کے دشمن سے اتحادی میں بدل گیا۔اس کے علاوہ 2011 میں مصر میں امریکی حمایت سے ایران مخالف حکومت کا خاتمہ ہوا۔

ابھی حال ہی میں سعودی عرب کو اس وقت دھچکہ لگا جب امریکہ نے اچانک شامی حکومت کے خلاف میزائل حملوں کا منصوبہ منسوخ کر دیا۔

سعودی عرب کو میزائل حملہ نہ کرنے کے بارے میں امریکی حکام کی بجائے امریکی نجی ٹی وی چینل سی این این کے ذریعے معلوم ہوا جو زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔

ان ممالک میں جوہری پروگرام پر سفارت کاری محض جوہری تنازعے کے حوالے سے نہیں تھی۔ان کر پریشانی ہے کہ مغرب نے ایران کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے سے پہلے ہی قبل ازوقت اس پر دباؤ کم کر دیا، اور ایران کے پاس اتنا جوہری ڈھانچہ یا تنصیبات موجود ہیں کہ وہ اس کی مدد سے مستقبل میں جوہری بم تیار کر سکتا ہے۔

یہ ملک خاص کر معاہدے پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اس میں ایران کو غیر معینہ مدت تک یورینیئم کی افزودگی کی اجازت دی گئی ہے اور اس کی اسرائیل خاص پر مخالفت کرتا رہا ہے۔

Image caption ایران میں جوہری معاہدے کے حق میں مظاہرہ

لیکن ان ممالک کو اس سے زیادہ خوف ہے کہ اس کی وجہ سے ایران کے لیے امریکی تعاون کا دروازہ کھل جائے گا اور اگر اس کو ایشیا میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی توجہ سے ملا کر دیکھا جائے تو اس سے امریکہ کی خطے میں بے جا ایرانی مداخلت کے خلاف عرب اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی صلاحیت اور اس کے جھکاؤ میں بتدریج کمی آئے گی۔

کسی حد تک امریکی دست برداری کے بارے میں پریشانی پرانی ہے۔ میری حال ہی میں خلیج کے دورے کے دوران ایک عرب ملک کے اہلکار سے ملاقات ہوئی اور اس نے مجھے ایران میں شاہ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں وہ وقت یاد ہے جب امریکہ سعودی عرب کی بجائے ایران کے قریب تھا۔‘

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ ایران میں جون میں صدارتی انتخابات سے پہلے ہی خفیہ طور پر دو طرفہ بات چیت کر رہا تھا اور اسی دوران ہی اس نے شام کے خلاف فضائی کارروائی کا منصوبہ منسوخ کر دیا۔ سعودی عرب نے ان پوشیدہ رابطوں کے بارے میں اسرائیل کو اشارہ بھی دیا تھا۔

اسرائیل، سعودی عرب تعاون

اس سے دو دلچسپ رجحانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی حقیقت کے برعکس دونوں ممالک کا ایک دوسرے کی جانب جھکاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسرا یہ کہ امریکی اتحادی اس بات پر تیزی سے قائل ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین تعاون لازمی عرب اور اسرائیل کی قیمت پر ہو گا اور اگر روس اور امریکہ کی قیادت میں شام کے مسئلے پر امن مذاکرات میں ایران کو شامل کیا جاتا ہے تو یہ رائے مزید پختہ ہو گی۔

ان ممالک کا ردِعمل کیا ہو گا؟ اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے وہ ایران کے ساتھ معاہدے کی شرائط کے پابند نہیں ہیں اور فوجی طاقت کے استعمال کا راستہ موجود رہے گا جبکہ سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پاکستان سے جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

ان دونوں اقدامات پر ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے دوران عمل درآمد مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس سربراہ ایمس یدلین کا کہنا ہے کہ ’آنے والے چھ ماہ میں حملے کا جواز معدوم ہو گا۔‘

تاہم ماضی میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف سائبر حملے میں تعاون کیا تھا اور اسرائیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایرانی جوہری سائنس دانوں کی قتل میں ملوث ہے۔ اور اس طرح کی پوشیدہ کارروائیوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ سے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے لیے برہمی کا سبب بنیں گے۔

اگر طویل المدتی معاہدہ طے نہیں ہوتا اور ایران جوہری پروگرام کو توسیع دیتا ہے تو اس صورت میں اسرائیل کی فضائی کارروائی کے امکانات میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہو گا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کا یہ خیال قرینِ قیاس نظر نہیں آتا کہ سعودی عرب حملے کے لیے اسرائیل کو براہِ راست فوجی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب خفیہ طور پر اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین انٹیلی جنس رابطوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب دونوں کو ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی اشارہ ملے۔ لیکن دونوں ممالک سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو خود سے بہت دور کرنا ان کے حق میں نہیں۔

ایران کے ساتھ معاہدہ پہلا معتدل قدم ہے اور ابھی اس ضمن میں بہت کام کرنا باقی ہے۔ لیکن امریکہ کے کچھ اتحادوں کے لیے یہ بات آنے والے وقت کے حوالے سے باعثِ تشوش ہے۔ ان کی ترجیح ہو گی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جوہری معاہدے پر پگھلتی برف سے خطے میں امریکہ اور ایران کے تعلقات کی نوعیت دوبارہ تبدیل نہ ہو۔

اسی بارے میں