اوباما کا ایران سے عبوری معاہدے کا دفاع

Image caption سخت بات اور ہنگامہ کرنا آسان ہے لیکن یہ ہماری سلامتی کے لیے ٹھیک نہیں: براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سخت موقف اختیار کرنے اور ہنگامہ کرنے‘ سے امریکہ محفوظ نہیں ہو سکتا۔

جنیوا میں اتوار کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین چھ ماہ کا ایک عبوری معاہدہ ہوا جس کے تحت ایران نے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی کچھ جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

براک اوباما نے پیر کو سان فرانسسکو میں ایک تقریب کے دوران موجودہ مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے چیلنجز اب بھی ہیں لیکن ہم سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کر سکتے اور ہم دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرامن طریقوں کو پسِ پشت نہیں ڈال سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم تشدد کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں نہیں پھنسنا چاہتے، شاید سیاسی طور پر سخت بات اور ہنگامہ کرنا آسان ہے لیکن یہ ہماری سلامتی کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘

ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کو عمومی طور پر خوش آئند قرار دیا گیا ہے لیکن اسرائیلی وزیرِاعظم نے اسے ایک ’تاریخی غلطی‘ کہا ہے۔

بعض امریکی سینیٹروں نے بھی اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایران کے ساتھ زیادہ نرمی برتی گئی ہے۔ انھوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور دینے کی دھمکی بھی دی۔

مغربی ممالک کا عرصے سے شبہ ہے کہ ایران کی جانبت سے یورینیئم کی افزودگی کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے جبکہ ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ وہ صرف جوہری توانائی چاہتا ہے۔

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے اس پر مختلف قسم کی سخت پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور یورپی یونین نے معاہدے کے بعد ان میں سے کچھ پابندیاں آئندہ ماہ تک اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ لوراں فبیوس نے کہا ہے کہ یورپی یونین آئندہ ماہ ایران پر عائد کچھ پابندیاں اٹھا سکتی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پابندیاں اٹھانے کا عمل ’محدود، مخصوص اور ان کے دوبارہ لاگو ہونے کے امکانات‘ کے ساتھ ہوگا۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے قومی سلامتی کے مشیر یوسی کوہن کی سربراہی میں ایک ٹیم ایران کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کے لیے واشنگٹن جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ’اس معاہدے کے تحت ایک کام ہونا چاہیے اور وہ ہے ایران کی فوجی جوہری قوت کو ختم کرنا۔‘

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’اسرائیل ایک ایسی حکومت کو جو اسرائیل کو تباہ کرنے کی بات کرتی ہے، ایسا کرنے کے لیے ذرائع حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

اسرائیل نے ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف فوجی کارروائی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار کو قوم سے خطاب میں اس بات کو دہرایا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

خطے میں ایران کے حریف سعودی عرب نے بھی پیر کو محتاط انداز میں ایران کے ساتھ معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔

سعودی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر نیت اچھی ہو تو یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کے جامع حل کی طرف پہلا قدم ہے۔

اسی بارے میں