مصر: صدر مرسی کی حامی 21 خواتین کو قید کی سزا

Image caption ان خواتین میں سے سات کی عمر 18 سال سے کم ہے اس لیے انہیں بچوں کی جیل میں بھیجا جائے گا

مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر محمد مرسی کی 21 خواتین حمایتی کارکنوں کو گیارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان خواتین کو مختلف جرائم میں قصوروار ٹہرایا گیا ہے جن میں دہشتگرد تنظیم کا رکن ہونا، ٹریفک روکنا اور گذشتہ ماہ سکندریہ کے شہر میں احتجاجی مظاہرے میں طاقت کا استعمال شامل ہے۔

مصر میں مظاہروں پر پابندی’جابرانہ‘ ہے: انسانی حقوق تنظیمیں

مرسی کی حمایت پر مصری کھلاڑی پر پابندی

ان خواتین میں سے سات کی عمر 18 سال سے کم ہے اس لیے انہیں بچوں کی جیل میں بھیجا جائے گا۔

عدالت نے اخوان المسلمین کے چھ رہنماؤں کو بھی ’مظاہروں میں فساد اکسانے‘ کے جرم میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان مردوں پر ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ریاستی میڈیا کے مطابق صدر مرسی کی اسلامی تنظیم کے 17 مذہبی رہنماؤں کو غربیہ کے قصبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ وہ مساجد میں اپنے خطبوں کے ذریعے فوج اور پولیس کے خلاف اشتعال پھیلا رہے تھے۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آٹھ افراد پر 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کے دوران ایک وکیل کو اغوا کرنے اور اس پر تشدد کرنے کا بھی الزام ہے۔

ملزمان میں اخوان المسلمین کے ایک قریبی جج محمود الخدیری، صدر مرسی کی حکومت میں نوجوانوں کے وزیر اوساما یاسین اور الجزیرہ ٹی وی کے ایک پریزینٹر احمد منصور شامل ہیں۔

جولائی میں صدر مرسی کی حکومت گرائے جانے کے بعد سے اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکام اس آپریشن کو ’دہشتگردوں کے خلاف کارروائی‘ بتا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں