نقاب پر پابندی کا قانون یورپی عدالت میں چیلنج

فرانس میں چہرے کے مکمل نقاب پر پابندی کے قانون کو ایک نوجوان مسلمان خاتون نے یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

یہ قانون فرانس کے شہر سٹراس برگ میں قائم عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

خاتون کا موقف ہے کہ پورے چہرے کا نقاب اور جسم ڈھانپنے کے لیے برقع ان کے ’مذہبی عقیدے، تہذیب اور ذاتی عقائد‘ کے مطابق ہے۔

فرانس: نقاب کے قانون سے انکاری خواتین

فرانس: پردہ کروانے پر شہریت سے محروم

انہوں نے اس کے لیے خاندان کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ ڈالے جانے سے انکار کیا۔

فرانس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے انسانی حقوق کی یورپی عدالت سے کہا ہے کہ وہ اس پابندی کو برقرار رکھنے کی حمایت کرے کیونکہ اس کی وجہ سے خواتین کو آزادی ملی ہے۔

انٹر نیشنل لیگ فار ویمنز رائٹس نامی تنظیم کی سربراہ این سوگیر نے عدالت کو خط میں کہا: ’مکمل چہرے کا نقاب چہرے یا جسم کو دفنا دینے کے مترادف ہے اور ایسا کرنے سے عوام میں عورت کی انفرادیت ختم کر دی جاتی ہے۔‘

فرانس میں سنہ 2011 میں بنائے گئے ایک قانون کے تحت مکمل چہرے کے نقاب پر پابندی ہے اور ایسا کرنے والے پر ڈیڑھ سو یورو جرمانہ ہے۔

مغربی یورپ میں مسلمانوں کی اقلیت سب سے زیادہ فرانس میں پائی جاتی ہے، جہاں مسلمانوں کی تعداد 50 لاکھ یا قریباً آبادی کا آٹھ فیصد ہے۔

انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے مطابق قانون کو چیلنج کرنے والی خاتون کا موقف ہے کہ اس قانون سے ان کی ’سوچ کی آزادی، فکر اور مذہب‘ مجروح ہوا ہے۔

اس دستاویز میں اس خاتون کا نام نہیں ظاہر کیا گیا، تاہم بتایا گیا ہے کہ وہ فرانس کی شہری ہیں اور سنہ 1990 میں پیدا ہوئیں اور فرانس ہی میں رہتی ہیں۔

یہ شکایت اپریل 2011 میں عدالت میں پیش کی گئی جب یہ قانون نافذ کیا گیا تھا۔

این سوگیر سمجھتی ہیں کہ یہ قانون کسی طرح آزادی اور وقار کے خلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد عورتوں کا آزادی دینا تھا کیونکہ نقاب ’برابری کے تصور کے یکسر منافی ہے۔‘

اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسلام نقاب پہننے کا پابند نہیں کرتا۔ تاہم انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں اس قانون کی مذمت بھی کرتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ قانون خواتین کے آزادی اظہار اور مذہب کی خلاف ورزی ہے۔

ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق اس حوالے سے عدالت کا فیصلہ آئندہ سال کے وسط تک متوقع نہیں ہے۔

اسی بارے میں