’فضائی دفاعی حدود‘: چین نے جنگی طیارے بھجوا دیے

Image caption ہم نے دیکھا ہے کہ خطے میں مختلف ممالک کے درمیان اثر رسوخ بڑھانے کی دوڑ میں تیزی آئی ہے: جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ

چین کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ چین نے بحیرۂ مشرقی چین کی حدود میں قائم کی گئی ’فضائی دفاعی حدود‘ میں جنگی طیارے بھجوائے ہیں۔

چین کی طرف سے نئی دفائی فضائی حدود قرار دیے جانے والا علاقہ متنازع ہے۔ جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان متنازع جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔ یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین کی فضائیہ کے ترجمان کرنل شِن جنکے نے کہا ہے کہ کئی جنگی طیارے اور ایک خبردار کرنے والا طیارہ علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جہاز معمول کی پروازیں کریں گے اور یہ دفاعی قدم ہے جو بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ فضائیہ ہائی الرٹ پر رہے گی اور قومی سلامتی کو خطرے کی صورت میں فضائی کارروائی کرے گی۔

امریکی بمبار طیاروں کی پرواز کی نگرانی کی گئی

چین کی بحیرۂ چین میں ’فضائی دفاعی حد بندی‘

اس سے قبل جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ ان کے طیاروں نے چین کی نئی ’فضائی دفاعی حدود‘ میں غیر اعلانیہ پروازیں کی ہیں۔

جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ان کے طیارے نے بحیرۂ مشرقی چین کے حدود میں ’نگرانی کرنے کی غرض‘ سے پرواز کی۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے بھی اس علاقے میں پروازیں کی ہیں۔ چین نے سنیچر کو بحیرۂ مشرقی چین میں اپنی نئی’ فضائی دفاعی حدود‘ کا تعین کیا تھا۔

چین کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی ہوائی جہاز کو اس علاقے میں پروازوں کا منصوبہ لازمی دینا ہوگا، اور انھیں ریڈیو کے ذریعے دو طرفہ رابطہ رکھنے اور ’اپنی شناخت کے بارے میں سوالات‘ کے بر وقت اور درست جوابات دینا ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ جو جہاز اپنی شناخت کے حوالے سے عدم تعاون کا مظاہرہ کرے گا یا پھر ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہو گا تو اس کے خلاف چینی فوج ہنگامی دفاعی اقدامات کرے گی۔

جاپانی حکام نے پرواز کے اوقات کے بارے میں نہیں بتایا۔ جاپانی حکومت کے ترجمان یوشہائد سیوگا نے کہا کہ ’جب سے چین نے اس فضائی دفاعی حدود کا اعلان کیا ہے تب سے ہم پہلے کی طرح اس پورے علاقے میں نگرانی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم چین کی وجہ سے نگرانی کرنے کی سرگرمیاں ترک نہیں کریں گے۔‘

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے کہا کہ ان کے طیاروں نے منگل کو متعلقہ فضائی حدود میں پروازیں کیں۔

اسی بارے میں