شامی حکومت اور اپوزیشن کے قومی اتحاد کی امن بات چیت میں شرکت کی تصدیق

Image caption اپوزیشن کا اتحاد کانفرنس کو شام میں عبوری حکومت کے قیام کے تناظر میں دیکھ رہا ہے: احمد الجبرا

شام کی حکومت کے بعد مغرب کے حمایت یافتہ حزبِ اختلاف کے اتحاد کے سربراہ نے بھی جنیوا میں منعقد ہونے والی امن کانفرس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔

تاہم فریقین نے ان امن مذاکرات کے نتائج کے بارے میں متضاد خیالات کا اظہار کیا ہے۔

’دو سال میں 6000 خواتین کا ریپ‘

’جنیوا مذاکرات شام کے حل کے لیے بہترین موقع‘

شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے نتیجے میں ایک عبوری حکومت کی راہ ہموار ہوگی جبکہ شامی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ اقتدار سونپنے کے لیے اس امن کانفرنس میں نہیں جا رہی۔

پیر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت اور باغی 22 جنوری کو جنیوا میں قیام ِامن کی کوششوں کے سلسلے میں ملاقات کریں گے۔

یہ مارچ 2011 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ شامی حکومت اور باغیوں کے نمائندوں کے درمیان بالمشافہ ملاقات ہوگی۔

شام میں ڈھائی برس سے جاری پرتشدد واقعات میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور نوے لاکھ دربدر ہو چکے ہیں۔

شامی وزارتِ خارجہ نے بدھ کی شب ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت امن کانفرنس میں سرکاری وفد بھیجے گی۔

تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نمائندے ’کسی کو بھی اقتدار سونپنے کے لیے جنیوا نہیں جا رہے۔‘ بلکہ ان کا مقصد ان عناصر سے ملنا ہے جو ’شام کے مستقبل کے لیے سیاسی حل کے حامی ہیں۔‘

وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ وہ قوتیں جو صدر بشار الاسد کا ملک کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں دیکھتیں انہیں اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرنا چاہیے۔

بیان کے مطابق ’اگر برطانیہ اور فرانس اس خیال پر قائم رہنے پر مصر ہیں کہ عبوری دور میں صدر الاسد کی کوئی جگہ نہیں تو انہیں جنیوا 2 میں آنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔‘ اور یہ کہ شامی عوام ’کسی کو اپنے مستقبل اور قیادت کا فیصلہ کرنے کا حق چرانے نہیں دیں گے۔‘

ادھر شامی حزبِ اختلاف کے قومی اتحاد سیریئن نیشنل کوالیشن نے سربراہ احمد الجبرا نے بھی بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ وہ بھی جنیوا 2 نامی ان مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے آخری اجلاس میں جنیوا 2 میں شرکت کے سلسلے میں واضح خیالات پیش کیے تھے جنہیں اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا اور اب ہم جنیوا جانے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کا اتحاد اس کانفرنس کو شام میں عبوری حکومت کے قیام کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ شامی اپوزیشن اور اس کے مغربی حامی ایسی کسی بھی حکومت میں بشار الاسد کو کوئی کردار دینے کے حق میں نہیں۔

اس سے قبل شامی قومی اتحاد نے اشارے دیے تھے کہ وہ جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار ہے لیکن اس سلسلے میں محصور باغیوں کو محفوظ راستے دیے جانے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی جیسے اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

پیر کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ آئندہ سال جنوری میں شام کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ملک میں عبوری حکومت بنانے کا ’بہترین موقع‘ ہوگا۔

تاہم جنیوا میں مذاکرات میں کس کو شرکت کی اجازت ہوگی، اس سوال پر تنازع بہت عرصے سے جاری ہے۔

شامی باغی گروہ بھی اس معاملے میں منقسم ہیں مگر تمام باغی گروہوں کا ایک مطالبہ یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر بشار الاسد اپنا عہدہ چھوڑ دیں جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا غیر مشروط ہونا لازمی ہے۔

ترکی اور ایران نے جو کہ اس تنازع میں مخالف فریقین کے حامی ہیں، کہا ہے کہ امن بات چیت سے قبل جنگ بندی ہونی چاہیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق بدھ کو تہران میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں ایرانی اور ترک وزرائے خارجہ نے کہا کہ لڑائی کو جلد از جلد روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

ایرانی وزیر ِخارجہ جواد ظریف نے یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ملک اور ترکی کے کئی معاملات پر موقف یکساں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شام کے بحران کا کوئی عسکری حل نہیں۔

انھوں نے اس عزم کو دہرایا کہ اگر ایران کو جنیوا 2 مذاکرات کی دعوت دی گی تو وہ کانفرنس میں ضرور شرکت کرے گا۔

اسی بارے میں