شامی کیمیائی ہتھیاروں کی سمندر میں تلفی کا منصوبہ

Image caption آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) نےشامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے 31 دسمبر تک کی حتمی تاریخ رکھی ہے

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو سمندر میں لے جا کر امریکی بحری جہاز ایم وی کیپ رے کی مدد سے تلف کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے۔

معاملہ سے واقف ذرائع نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت تلفی کا ایک ’موبائل پلانٹ‘ بحری جہاز پر رکھا جائے گا جو پانی کی مدد سے کیمیائی مادوں کو محفوظ سطح تک لے آئے گا۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے 31 دسمبر تک کی حتمی تاریخ رکھی ہے۔

ابھی تک دنیا بھر کے ممالک میں اس عمل کو سرانجام دینے کے حوالے سے ہچکچاہٹ ہے۔

البانیہ سمیت دیگر جن ممالک کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ تلفی کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کو وہاں لے کر جایا جائے گا، اب تک اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ عالمی برادری نے ان ہتھیاروں کی تلفی کو دنیا کے اہم ترین سکیورٹی معاملات میں سے ایک قرار دیا تھا۔

کیپ رے بحری جہاز پر مجوزہ تلفی میں ’ہائی ڈروالسز‘ نامی کیمیائی عمل کیا جائے گا جو کہ 77 لاکھ لیٹر مائع اخراج پیدا کرے گا جسے چار ہزار کنٹینروں میں بند کیا جائے گا۔

اس عمل کا اخراج کسی بھی صنعتی اخراج جتنا ہی خطرناک ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے لیے کہ اس اخراج کو کس ملک کے حوالے کیا جائے گا، حتمی تاریخ 29 نومبر ہے۔

معاملہ صرف یہ نہیں کہ اس عمل سے نکالنے والے مادے کی ذمہ داری کوئی ملک قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ملک تین سال سے خانہ جنگی میں گھرے شام میں سے کیمیائی ہتھیاروں کو نکال کر لانے کے لیے تیار نہیں۔ اب شاید یہ کام شامی فوج کو خود ہی کرنا پڑے۔

ذرائع کا ماننا ہے کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں میں تیس ٹن کے علاوہ تمام تر ہتھیاروں کو غیر مہلق شکل میں رکھا گیا ہے۔ اس شکل میں کم از کم دو علیحدہ رکھے گئے اجزا کو ملا کر ہی کوئی خطرناک مادہ بنایا جاتا ہے۔ ان علیحدہ علیحدہ رکھے گئے اجزا کو شامی فوج نے مختلف مقامات سے اکھٹا کیا ہے اور ان کا حجم تقریباً 600 ٹن ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 30 ٹن مسٹرڈ گیس بھی شامی ہتھیاروں میں شامل ہے۔

چونکہ سائرن گیس یا وی ایکس جیسے نروو ایجنٹ ہتھیاروں کی شکل میں نہیں رکھے گئے، اس سے ان کی تلفی کا کام قدرے آسان ہو جاتا ہے۔

Image caption اس وقت او پی سی ڈبلیو ہتھیاروں کی منتقلی کا ساز و سامان اور کنٹینر براستہ لبنان شام لے کر جا رہی ہے

حکومتیں کیمیائی ہتھیاروں کے اجزا کو علیحدہ اس لیے رکھتی ہیں تاکہ وقت کے ساتھ ان کے ناکارہ ہونے کا امکان کم ہو اور ان کے غیر دانستہ طور پر استعمال ہونے کا خطرہ بھی کم ہو۔

اس وقت او پی سی ڈبلیو ہتھیاروں کی منتقلی کا ساز و سامان اور کنٹینر براستہ لبنان شام لے کر جا رہی ہے اور توقع ہے کہ آئدہ چند ہفتوں میں شامی فوجی قافلے ان کیمیائی ہتھیاروں کو ملک سے باہر لے جانا شروع کر دیں گے۔

تاہم ابھی اس منتقلی کے مراحل کے بارے میں او پی سی ڈبلیو اور امریکی بحریہ کے درمیان چند تفصیلات غیر واضح ہیں۔ مثال کے طور پر یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ کیا امریکی کشتی کسی بندرگاہ تک آ کر یہ ہتھیار لے کر جائے گی یا پھر چند ’غیر امریکی کشتیاں‘ یہ مادہ لے کر تلفی کے پلانٹ تک پہنچائیں گی۔

اسی بارے میں