سکاٹ لینڈ: ہیلی کاپٹر شراب خانے پرگر کر تباہ، آٹھ ہلاک

Image caption ہیلی کاپٹر میں سوار ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس افسر اور ایک سولین پائلٹ تھا

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ایک شراب خانے پر پولیس کے ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی۔

ہلاک ہونے والوں میں ہیلی کاپٹر میں سوار تین افراد جبکہ شراب خانے میں مووجود پانچ افراد شامل ہیں جبکہ 14 شدید زخمیوں کا شہر کے مختلف ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

’دا کلوتھا‘ نامی شراب خانے پر ہیلی کاپٹر گرنے کا یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی شب تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آيا۔’دا کلوتھا‘ شراب خانہ کلائیڈ دریا کے قریب واقع ہے۔

سکاٹ لینڈ پولیس کے مطابق حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں تین افراد سوار تھے جب کہ شراب خانے میں تقریباً 120 افراد جمع تھے۔

بڑے پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ ایئر ایکسڈنٹ انویسٹیگیشن برانچ یا فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والی برانچ اس واقعے کی تفتیش کرے گی۔

بہت سے افراد کو یا تو بچا لیا گیا یا وہ وہاں سے خود نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ بعض افراد عمارت میں پھنس کر رہ گئے۔

ہیلی کاپٹر میں سوار ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس افسر اور ایک سولین پائلٹ تھا۔

Image caption یہ واقعہ ساڑھے دس بجے شب دا کلوتھا پب میں پیش آیا

سکاٹ لینڈ پولیس اور سکاٹ لینڈ کی فائر اور رسکیو سروس کا کثیر تعداد میں عملہ اب بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

سکاٹ پولیس کے سربراہ سر سٹیفن ہاؤس نے سنیچر کے دوپہر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عملہ کچھ عرصے کے لیے جائے وقوعہ پر رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ’یہ ایک پیچیدہ اور مشکل امدادی کارروائی ہے جو جلد ختم نہیں ہو گی۔ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ اور خطرناک منظر ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ امدادی کارروائیاں کئی دن تک جاری رہیں گی۔

اس سے پہلے تفتیش میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ’ہیلی کاپٹر ایک پتھر کی طرح شراب خانے پر آ گرا۔‘

سکاٹ لینڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کوک نے کہا تھا کہ بچانے والا عملہ شراب خانے میں پھنسے لوگوں کو ’ایک طریقۂ کار‘ کے مطابق نکال رہا تھا۔

گلاسگو کے فرسٹ منسٹر ایلکس کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے بڑے حادثے کے نتیجے میں ہمیں ہلاکتوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

پولیس کے مطابق شہر کے ایک بڑے حصے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر امدادی کام جاری ہے۔

اسی بارے میں