اسرائیل میں عرب بدوؤں کے احتجاجی مظاہرے

Image caption اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے

اسرائیل میں رہائش پذیر عرب بدوؤں نے انھیں دوسری جگہ بسانے کے حکومتی منصوبے کے خلاف صحرائے نقب کے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

سنیچر کو اسرائیلی حکومت کے منصوبے کے خلاف’یوم غضب‘منایا گیا اور صحرائے نقب کے شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ غرب اردن اور یروشلم میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

عرب بدوؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ انھیں اپنی آبائی زمین سے بے دخل کرنا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد زمین کے دیرینہ تنازع کو حل کرنا اور لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

صحرائے نقب کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤں کیا جس میں اطلاعات کے مطابق 15 اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے 28 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

اسرائیل کے منصوبے کے تحت عرب بدوؤں کو منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیے گئے قصبوں میں آباد کرنا ہے اور اس منصوبے کی ابھی اسرائیلی پارلیمان سے دو مراحل میں منظوری لینا باقی ہے۔

اس منصوبے کی قانون سازی کے خلاف’ زمین پر قبضہ‘ نامی ایک تحریری مہم شروع کی گئی ہے اور اس پر جولی کریسٹی اور پیٹر گیبرئل سمیت کئی مقبول شخصیات نے دستخط بھی کیے ہیں اور یہ جمعہ کو ایک برطانوی اخبار میں شائع بھی ہوا ہے۔

نقب میں زمین کے استعمال کے حوالے سے حکومت اور بہت سارے بدوؤں کے درمیان تنازع ہے جس میں بدوؤں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندانوں نے صدیوں سے اس صحرا میں گھوم کر اسے آباد کیا۔

اسرائیل بدو نمائندوں سے مشاورت سے ان کے لیے قصبے تعمیر کر رہا ہے تاہم اب بھی علاقے میں کئی دیگر مقامات پر بدو سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے رہائش پذیر ہیں۔

سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے پہلے یہاں عرب بدو نیم خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے تاہم موجودہ جدید دور میں بہت سارے بدو’غیر منظور شدہ‘ دیہات میں رہتے ہیں کیونکہ یہ علاقے باقاعدہ منصوبہ بندی کے درجے میں نہیں آتے ہیں اور یہاں بجلی، گیس سمیت دیگر سرکاری سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اس سے پہلے ستمبر میں اسرائیلی ہائی کورٹ کے حکم پر غرب اردن کے علاقے خربۃ المكحول میں خانہ بدوشوں کے مکانات کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ 1967 سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

اسی بارے میں