بنکاک:پولیس حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے میں کامیاب

Image caption فوج نے تعیناتی سے قبل یہ شرط رکھی کہ ان کے جوان ہتھیار سے لیس نہیں ہوں گے

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں پولیس نے اہم مقامات پر وزیراعظم ینگ لگ شیناوترا کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو منشتر کر دیا ہے۔

یہ مظاہرین اتوار کو ملک کے مختلف ٹی وی سٹیشنوں کی عمارتوں میں داخل ہو گئے تھے تاکہ ان کے رہنما کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کی نشریات یقینی بنائی جا سکیں۔

بنکاک میں حکومت مخالف مظاہرے: تصاویر

حزبِ اختلاف کے رہنما اور ملک کے سابق نائب وزیراعظم سوتھپ تھاگسوبن نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں پیر کو حکومت کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اتھائی لینڈ میں گذشتہ ایک ہفتے سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور اتوار کو مظاہرین نے وزیراعظم کے ہیڈکوارٹر کے ساتھ دیگر سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے کی دھمکی دی تھی تاہم پولیس نے پانی کی تیز دھار پھینکنے والی مشین اور آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو گورنمنٹ ہاؤس اور پولیس کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے سے باز رکھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوج کو بھی مظاہرین سے نمٹنے اور فسادات کی روک تھام کرنے والی پولیس کی امداد کے لیے بلایا گيا ہے۔

مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں اب تک چار افراد مارے گئے ہیں۔

Image caption سوتھپ تھاگسوبن نے اپنے پیغام میں پیر کو حکومت کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے

تھائی وزیرِاعظم نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد جمعرات کو مظاہرے ختم کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔ تاہم حزبِ مخالف نے ان کی اپیل مسترد کردی تھی اور اپوزیشن رہنماؤں نے کہا تھا کہ ’ہم حکومت کو مزید کام نہیں کرنے دیں گے۔‘

’سول موومنٹ فار ڈیموکریسی‘ کے بینر کے تحت حکومت مخالف مظاہرین نے حکومت کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو ’پیپلز کونسل‘ سے بدلنا چاہتے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم ینگ لک شیناوترا کو بے دخل کیے جانے والے سابق رہنما اور ان کے بھائی تاکسین شیناوترا ہی کنٹرول کرتے ہیں۔

تھاکسین شیناوترا کو سنہ 2006 میں ایک فوجی بغاوت میں برطرف کیا گیا تھا۔ سنہ 2010 میں تھاکسین کے حامیوں نے بنکاک کے اہم مقامات پر قبضہ کرکے دو مہینوں تک دھرنا دیا جس کے نتیجے میں ہونے والے تشدد میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بنکاک میں بی بی سی کے نمائندے جوناہ فیشر کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین کئی ٹی وی سٹیشنوں میں داخل ہو گئے ہیں اور اب وہ پروگرام کو کنٹرول کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ان کے مطابق حالات بظاہر تختہ پلٹنے جیسے ہیں۔

Image caption پرامن مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہوگیا جب مظاہرین نے حکومت حامی مظاہرین کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا

بنکاک پوسٹ کے مطابق حکومت مخالف ایک گروپ نے تھائی لیند کے پی بی ایس ٹی وی سٹیشن پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پی بی سی حکام سے مظاہرین کے رہنماؤں کی تقاریر نشر کرنے کے لیے کہا ہے۔

اس سے قبل ینگ لک نے کہا تھا کہ وہ مظاہرین کے خلاف کم سے کم قوت کا استعمال کریں گی۔

اتوار کی صبح حکومت حامی گروپ ’ریڈ شرٹ‘ نے کہا کہ وہ بینکاک سٹیڈیم میں اپنی ریلی منسوخ کر رہے ہیں تاکہ سکیورٹی فورسز مخالف مظاہرین کی نگرانی کرسکیں۔

اسی بارے میں