چینی دفاعی فضائی حد بندی پر امریکہ کو تشویش ہے: جو بائیڈن

Image caption امریکہ اور جاپان نے چین کی نئی ’فضائی دفاعی حدود‘ قائم کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے ایشیا کا دورہ شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چین کی طرف سے نئی دفاعی فضائی حد بندی پر ’انتہائی تشویش‘ ہے۔

جاپانی اخبار آساہی کو ایک تحریری جواب میں جو بائیڈن نے کہا کہ چین اور جاپان کو کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

امریکی نائب صدر پیر کی رات ٹوکیو پہنچے جس کے بعد وہ بیجنگ اور سیول جائیں گے۔ وہ ایشیا کے چھ روزہ دورے پر ہیں۔

جو بائیڈن نے اخبار کو بتایا کہ چین کی طرف سے نئی دفاعی فضائی حد بندی کی وجہ سے ’جاپان اور چین کے درمیان کشیدہ حالات کو کنٹرول کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے۔‘

وہ اس بات پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ اس قسم کا کوئی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جس سے خطے کا امن، سکیورٹی اور خوشحالی متاثر ہوں۔

امریکہ اور جاپان نے چین کی طرف سے جاپان کے زیرِ انتظام متنازع جزیروں پر ’فضائی دفاعی حدود‘ قائم کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے ’خطے میں توازن کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیا ہے۔‘

چین کی طرف سے نئی دفاعی فضائی حدود قرار دیے جانے والا علاقہ متنازع ہے۔ جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان متنازع جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔ یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔

اس فضائی حدود میں ایسے علاقے بھی ہیں جن پر جنوبی کوریا اور تائیوان ملکیت کے دعویدار ہیں۔

نئی حد بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ اس علاقے پر سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے فلائٹ پلان کی پیشگی اطلاع دینی ہوگی اور اپنی شناخت کروانی ہوگی ورنہ ان کے خلاف ’ہنگامی دفاعی اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے جنگی طیاروں نے ان حدود میں پروازیں کی ہیں جبکہ جاپان کے مسافر جہازوں نے حکومت کے درخواست پر اس حدود کی پابندی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری طرف چین دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کو بحیرہِ مشرقی چین میں امریکی اور جاپانی جہازوں کی پروازوں کی نگرانی کے لیے لڑاکا طیارے بھیجے تھے۔

اسی بارے میں