القاعدہ جدید بم بنانے کی کوشش میں

Image caption یمن میں القاعدہ سے خطرے کو حقیقی قرار دیا جا رہا ہے

برطانوی وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں دہشت گرد تنظیمیں ایسے بم بنانے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں جنھیں جہازوں تک اسمگل کیا جانا نسبتاً آسان ہو گا۔

ان اطلاعات کے بعد برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سکینروں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

تین سال قبل القاعدہ یمن سے مغرب جانے والی دو پروازوں پر پرنٹروں کے اندر بم رکھ کر سمگل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ ان میں سے ایک بم برطانیہ کے ایک ایئرپورٹ پر آنے والی پرواز میں پایا گیا تھا جب کہ دوسرا بم دبئی پہنچنے والی ایک پرواز سے برآمد ہوا۔

مئی 2012 میں ایک بم یمن میں پکڑا گیا تھا۔

مسافر طیاروں کی سکیورٹی سے وابستہ لوگوں کی زبان میں اس کو ’ماہرانہ طور پر چھپایاگیا بم‘ کہا جاتا ہے جو زیادہ تر غیر دھاتی مواد سے بنائے جاتے ہیں جن کا سکینروں کے ذریعے پتہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ ان میں ایسے دھماکہ خیز کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں جن سے بخارات کا اخراج کم ہوتا ہے۔ ان میں پینٹریتھیٹل ٹیٹرانائٹریٹ جیسے کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں جو بظاہر بے ضرر نظر آنے والی چیزوں مثلاً جوتوں، زیر جاموں، مشروبات اور پانی کی بوتلوں وغیرہ میں چھپائے جا سکتے ہیں۔

یمن میں القاعدہ سے منسلک گروہ، جن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ شامل ہے، 2009 اور 2010 میں تین مرتبہ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سے بچ کر جہازوں پر بم پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

برطانوی وزارتِ دفاع وائٹ ہال کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اس قسم کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی سے منسلک ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یورپی ہوا بازی کو جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے شدید خطرہ ہے۔

Image caption یمن میں سرکاری اداروں کی عملداری کچھ علاقوں تک محدود ہے

حکام کے مطابق اس تنظیم کے لوگ ماہر ہیں اور انھیں تکنیکی قابلیت اور علم حاصل ہے۔ وہ بہت متحرک بھی ہیں اور انھیں تجربہ کار لوگوں کا تعاون حاصل ہے۔ وہ ایک ایسے علاقے میں سرگرم ہیں جہاں یمنی حکام کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کے علاوہ ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ لوگوں کو تن تنہا ایسی کارروائیاں کرنے کا حوصلہ بخش سکیں۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو اسی لیے سب سے خطرناک تنظیم خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں سعودی عرب سے تعلق رکھنا والا بم بنانے کا ماہر ابراہیم الانصاری شامل ہے جو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد ہے۔ خیال ہے کہ جو تین غیر دھاتی بم مسافر پروازوں تک سمگل کر لیےگئے تھے وہ اسی کے تیار کردہ تھے۔

خفیہ اداروں کے حکام کے مطابق ابراہیم الانصاری کسی بھی وقت امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا نشانہ بن جانے کے خوف سے اپنی مہارت دوسروں کو تیزی سے منتقل کر رہا ہے۔

یمن میں القاعدہ کے ارکان نے اپنے ان منصوبوں کا اکثر برملا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ سال لندن اولمپکس سے چند ہفتے قبل انھوں نے ایک جدید قسم کا بم اپنے ایک خود کش رضاکار کو تھما دیا تھا لیکن وہ جاسوس نکلا اور وہ بم کے ساتھ بھاگ کر سعودی عرب چلا گیا اور اُس بم کو سعودی حکام کے حوالے کر دیا۔

برطانیہ میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے ایسٹ مڈلینڈ سے پکڑے جانے والے بم کی نقل بنا کر سکاٹ لینڈ یارڈ میں شیشے کے ڈبے میں نمائش کے لیے رکھی ہے۔

کمانڈر رچرڈ والٹن نے یہ بم دکھاتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک جدید اور پیچیدہ قسم کا بم ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ دیکھنے میں عام قسم کا پرنٹر دکھائی دیتا ہے لیکن اس کا ڈیزائن، اس کی ٹیکنالوجی اور تیکنیک بہت جدید ہے اور کئی بار اس کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اس میں چھپے بم کا پتہ لگایا جا سکا۔