بے گھر فلسطینی کی داستان

محمدالبشیہ
Image caption ’جب الماتي ایئر پورٹ پر گزارے گئے وقت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے غصہ آنے لگتا ہے‘

فلسطینی محمدالبشیہ نے قزاقستان کے الماتي انٹرنیشنل ایئر پورٹ میں پانچ ماہ گزارے اور اب آخر کار انھیں فن لینڈ میں پناہ دے دی گئی لیکن اب بھی محمد کی مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔

محمد اب فن لینڈ کی حکومت کی جانب سے دیے گئے ایک کمرے کے فلیٹ میں رہ رہے ہیں۔ سكائپ کے ذریعےمحمد نے جوواسكیلا شہر سے بتایا کہ وہ اب دن میں کسی بھی وقت اپنے کمرے سے باہر جا سکتے ہیں جو ان کے لیے بہت اہم ہے۔

محمد نے کہا: ’میں اب بھی جب الماتي ایئر پورٹ پر گزارے گئے وقت کے بارے میں سوچتا ہوں، تو مجھے غصہ آنے لگتا ہے۔ آج بھی میری نیند معمول پر واپس نہیں آئی ہے اور میں بمشکل پانچ گھنٹے ہی سو پاتا ہوں۔‘

ایئر پورٹ پر وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں قید رہتے تھے اور انھیں باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

محمد کو 17 اگست کو الماتي ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ ایریا میں واقع ایک چھوٹا سا کمرہ چھوڑنے کے بعد رومانیہ میں اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے پناہ گزین کیمپ لے جایا گیا۔

محمد کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی آزاد نہیں ہیں: ’وہاں عراق، صومالیہ اور سوڈان کے بہت سے لوگ تھے۔ ہر کمرے میں تقریباً دس لوگ رہ رہتے تھے، ان لوگوں کو دن میں تین بار کھانا ملتا ہے۔ ہفتے میں تین بار شہر جا سکتے ہیں، لیکن کیمپ کے دروازے رات نو بجے بند ہو جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’وہاں ایک عراقی عیسائی شخص ہے، جس کا خاندان مارا جا چکا ہے وہ گذشتہ پانچ سالوں سے اپنا معاملہ حل ہونے کا منتظر ہے، اور بہت مشکل میں ہے۔

ستمبر کے شروع میں جوواسكیلا شہر میں محمد کا فنِش زبان کا ٹیسٹ لیا گیا، لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئے۔ محمد اب جنوری میں فِنش زبان کا کورس شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

محمد نے کہا کہ ’میں لیبر کے محکمے میں گیا تھا لیکن انھوں نے مجھے کہا کہ زبان جانے بغیر مجھے کوئی کام نہیں مل پائے گا۔‘

انھیں فی الحال فن لینڈ کی حکومت کی طرف سے ہر ماہ 400 یورو ملتے ہیں اور انھوں نے کچھ نئے دوست بھی بنا لیے ہیں۔

محمد ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ شہر میں عرب ممالک سے صرف پانچ لوگ ہیں۔

محمد اب اپنی قزاقستانی خاتون دوست اولےسسيا گريچشےنكو کے بارے میں پریشان ہیں جو سات ماہ کے حمل سے ہیں اور اگلے کچھ دنوں کے بعد وہ طیارے سے سفر نہیں کر پائیں گی۔

محمد نے کہا کہ وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ جب ان کی خاتون دوست قزاقستان میں ان کے بچے کو جنم دے اور وہ ان کے ساتھ نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم لوگ سكائپ پر بات چیت کرتے ہیں اور اولےسسيا نے کہا کہ انہیں چیک اپ کے لیے اکیلے جانا انھیں بالکل اچھا نہیں لگتا کیونکہ دوسری حاملہ خواتین اپنے شوہر کے ساتھ آتی ہیں۔‘

اسی بارے میں