منڈیلا کو دنیا بھر سے عوام و خواص کا خراجِ تحسین

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے انتقال پر لاکھوں جنوبی افریقی باشندوں کے علاوہ دنیا بھر کے عوام اور خواص نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کی شب جہاں جوہانسبرگ میں ان کی رہائش گاہ کے باہر موجود ایک بڑا ہجوم ان کے دعائیں کرتا رہا، وہیں کچھ نے نسل پرستی کے خلاف نغمے گا کر اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

عالمی رہنماؤں نے بھی اپنے تعزیتی پیغامات میں منڈیلا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں ایک عظیم انسان قرار دیا ہے۔

ملکہِ برطانیہ

ملکہِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ نیلسن منڈیلا کی وفات پر انہیں شدید افسوس ہے۔ ملکہ الیزبتھ نے ان کے خاندان اور جنوبی افریقہ کے عوام کے ساتھ تعزیات کا اظہار بھی کیا۔

بکنگھم پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکہ برطانیہ نیلسن منڈیلا کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو انتہائی گرم جوشی سے یاد کرتی ہیں۔

’انہوں نے اپنے ملک کی بہتری کے لیے ان تھا محنت کی اور ان کا ورصہ یہ پرامن جنوبی افریقہ ہے جو ہم آج دیکھتے ہیں۔‘

نیلسن منڈیلا نے برطانیہ کا پہلا ریاستی دورہ 1996 میں کیا تھا۔

روسی صدر ویلادیمر پیوتن

روسی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نیلسن منڈیلا جدید دور کے عزیم ترین سیاستدان تھے۔

’شدید مشکل دور سے گزرنے والے نیلسن منڈیلا آخری دن تک انسانیت اور انصاف کے حصول کی جدوجہد میں مصروف رہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما

امریکہ کے صدر اوباما نے نیلسن منڈیلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے سب سے زیادہ متاثر کن، باہمت اور انتہائی اچھا انسان کھو دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’نیلسن منڈیلا کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اور ممالک بہتری کے لیے تبدیل ہو سکتے ہیں۔‘

براک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر نیلسن منڈیلا سے متاثر تھے۔

صدرِ و وزیراعظم پاکستان

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور پاکستانی وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے نیلسن منڈیلا کی وفات پر اپنے تعزیاتی پیغامات میں کہا ہے کہ پوری دنیا ان کی امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کا احترام کرتی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظورہ کردہ ایک قراردار میں نیلسن منڈیلا کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ جنوبی افریقی عوام کے اس ناقابلِ تلافی نقصان کو جرات اور صبر سے سہہ سکیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیلسن منڈیلا کو انصاف کا پیکر قرار دیا۔ ان کے بقول نیلسن منڈیلا نے انسانیت کے وقار، برابری اور آزادی کے لیے جد و جہد دنیا بھر میں کئی لوگوں کو متاثر کیا۔

افریقن نیشنل کانگریس

منڈیلا کی جماعت حکمراں افریقن نیشنل کانگریس نے اپنے ردِعمل میں کہا: ’جنوبی افریقہ اور دنیا نےانسانیت، مساوات، انصاف اور امن کا پیکر کھو دیا۔‘

نائیجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن

’منڈیلا دنیا بھر میں پسے ہوئے لوگوں کے لیے قابلِ تقلید مثال تھے۔ وہ ایک پر عزم انسان تھے جس کا اظہار انھوں نے تاحیات کیا اور وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔‘

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ ’ایک عظیم روشنی چلی گئی۔ نیلسن منڈیلا ایک ہیرو تھے۔‘ انھوں نے برطانوی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔

انڈونیشیا کے صدر سسیلو بمبنگ

انڈونیشیا کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا ’نیلسن منڈیلا ایک عزیم شخصیت تھے۔ اگرچہ ان کو طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا لیکن ان میں کسی قسم کا افسوس نہیں تھا۔ منڈیلا مفاہمت پسند، جمہوریت پسند اور متحد کرنے والی شخصیت تھے جن کو عالمی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘

برازیل کی صدر جیلما روسیف

’انہوں نے انسانی تاریخ میں آزادی کے انتہائی اہم عمل میں صبر اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو

’نیلسن منڈیلا ہمارے دور کی سب سے محترم شخصیت تھے۔ وہ بابائے قوم تھے، ایک دانا انسان اور ایک آزادی کے لیے لڑنے والا انسان جس نے تشدد کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کئی برس جیل میں گزار کر اپنے لوگوں کے لیے مثال قائم کی۔‘

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش

’صدر منڈیلا ہمارے دور میں آزادی اور مساوات کے لیے بڑی طاقتوں میں سے ایک تھے۔انھوں نے اپنے مصائب کو وقار کے ساتھ برداشت کیا۔ ان کی مثال کے باعث دنیا آج پہلے سے بہتر ہے۔ اس عظیم آدمی کی کمی محسوس کی جائے گی لیکن ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔‘

نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم جان کی

’نیلسن منڈیلا ایک مثاتر کن رہنما اور غیر معمولی انسان تھے۔ کئی برسوں تک وہ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز سے پاک مستقبل کی امید کا نشان بن کر رہے۔ منڈیلا نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ تمام دنیا کے لیے تبدیلی کی قوت تھے۔‘

سابق امریکی صدر بل کلنٹن

’تاریخ نیلسن منڈیلا کو انسانی وقار، آزادی، امن اور مفاہمت کے فاتح کے طور پر یاد رکھے گی۔ ہم انھیں ایک غیر معمولی وقار اور ہمدردی کے حامل انسان کے طور پر یاد رکھیں گے جس نے بدسلوکی کو برداشت اور اپنے مخالفین کو تسلیم کیا، یہ صرف ان کا سیاسی لائحہ عمل نہیں بلکہ ان کا طرزِ زندگی تھا۔‘

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف

جواد ظریف نے ٹوئٹ میں کہا ’نیلسن منڈیلا کے انتقال پر ایران کی عوام جنوبی افریقہ کی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ منڈیلا نے انسانیت کو اپنی ہمت اور جذبات سے متاثر کیا۔‘

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے پیغام میں کہا ’نیلسن منڈیلا کو اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔‘

اسی بارے میں