’غیرملکی جنگجو شامی انقلاب کو برباد کر رہے ہیں‘

Image caption ترکی کے راستے القاعدہ سے منسلک جہادیوں کی آمدورفت حالیہ دنوں میں بہت منظم ہوگئی ہے

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شدت پسند جنگجو شامی انقلاب کو برباد کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو جن میں سے بہت سے اپنا تعلق القاعدہ سے بتاتے ہیں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فری سیریئن آرمی کے ایک مقامی کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ غیرملکی شدت پسندوں اس لڑائی کو ’جہاد‘ قرار دیتے ہیں اور انھوں نے منظم انداز میں تنظیم کے ان کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے جو اسے یہ رخ دینے پر تیار نہیں۔

بی بی سی کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ شام میں لڑنے والے غیر ملکی جہادی شامی افواج سے لڑائی کے لیے جنوبی ترکی میں موجود پناگاہیں استعمال کرتے ہیں۔

ترکی کے سرحدی قصبے ریحانلی میں ایسی ہی ایک پناہ گاہ کے نگراں ایک شخص کے مطابق ایک سو پچاس سے زیادہ افراد نے ان کی پناہ گاہ کو گذشتہ تین مہینوں میں استعمال کیا ہے جن میں بیس کے قریب برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

ترکی کے راستے القاعدہ سے منسلک جہادیوں کی آمدورفت حالیہ دنوں میں بہت منظم ہوگئی ہے۔

ریحانلی قصبے کے قریب موجود پناہ گاہ کے نگراں نے بی بی سی کے رچرڈ گیلپن کو بتایا کہ گذشتہ 90 دنوں میں ’150 سے زیادہ لوگوں نے ان کی پناہ گاہ میں قیام کیا۔‘

’ان میں سے 15 سے 20 برطانوی شہری تھے اور یہ آمدورفت دوستوں کی جانب سے دعوت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ جہادی عموماً ’شام کی سرحد عبور کرنے سے پہلے ایک یا دو دن کے لیے رکتے ہیں اور واپسی پر بھی اسی طرح رکتے ہیں جب وہ اپنی واپسی کی پروازوں کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں‘۔

ایسے ایک جنگجو نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ’میرے جیسے ہزاروں ہیں اور حقیقتاً دنیا کہ تمام کونوں سے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ہم القاعدہ ہیں۔‘

یہ جہادی فرانس سے تعلق رکھنے والے سابق طالبِ علم ہیں اور انہوں نے اس بریگیڈ میں شمولیت اِختیار کی جس میں آٹھ ہزار افراد شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس بریگیڈ نے حال ہی میں ’عراق اور عظیم شام کی اسلامی ریاست‘ نامی اسلام پسند تنظیم سے وفاداری کی عہد کیا ہے۔

Image caption شام میں النصرہ فرنٹ کے جنگجو بھی سرگرم ہیں جو القاعدہ سے منسلک تنظیم ہے

گذشتہ سال میں ہزاروں غیر ملکی جنگجو جن میں تقریباً 300 برطانوی شہری بھی شامل ہیں شام جا چکے ہیں تاکہ صدر بشار الاسد کی افواج سے لڑ سکیں۔

تاہم شام کی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ جہادی نہ صرف شامی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں بلکہ منظم انداز میں فری سیریئن آرمی کے فوجیوں سے بھی لڑ رہے ہیں۔

فری سیریئن آرمی کے ایک سابق کمانڈر کا کہنا ہے کہ انہیں فرار ہو کر ترکی آنا پڑا جب ان کے یونٹ کو جہادیوں نے گرفتار کر لیا تھا۔

اس کمانڈر کا کہنا ہے کہ انہیں جہادیوں نے کہا کہ وہ ’سچے مسلمان نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے دیکھا کہ کیسے وہ میرے دوستوں کو لوہے کی سلاخوں سے مارتے، ان کے چہروں پر اسلحے کے ڈبوں سے ضربیں لگاتے اور پھر انہیں مار دیتے۔ فرش خون سے بھرا ہوتا تھا۔‘

اس کمانڈر نے کہا کہ ’ہم نے انقلاب، آزادی اور مساوات کے لیے شروع کیا تھا مگر جہادی یہ نہیں چاہتے۔ وہ شام کو تباہ کرنے آئے ہیں۔‘

اسی بارے میں