بحیرۂ مردار کو بچانے کے لیے بحیرۂ احمر سے پانی کی ترسیل

Image caption بحیرۂ مردار میں تیزی سے پانی کم ہو رہا ہے اور کئی ماہرین کا خیال ہے کہ 2050 تک یہ بالکل خشک ہو جائے گا

اسرائیل، اردن اور فلسطینی اتھارٹی نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بحیرۂ مردار کو سوکھنے سے بچایا جاسکے گا۔

اس معاہدے کے تحت ایک پائپ لائن بچھائی جائے گی جس سے بحیرہ احمر سے پانی بحیرۂ مردار میں ڈالا جائے گا اور اس سے خطے کے عوام کو پینے کا پانی بھی دستیاب ہو سکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے اردن کے پانی کو زراعت کے لیے استعمال کرنے کی وجہ سے بحیرۂ مردار میں پانی کی سطح میں سالانہ ایک میٹر یعنی تین اعشاریہ تین فٹ کمی واقع ہو رہی ہے۔

تاہم ناقدین نے اس منصوبے کے بحیرۂ مردار کے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہونے والے اثرات پر سوال اٹھایا ہے۔

اس منصوبے پر پچھلے کئی سالوں سے بات چیت کی جا رہی تھی۔

بی بی سے کے نامہ نگار کیون کونلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات تو آگے نہیں بڑھ رہے لیکن اس حوالے سے تعاون خوش آئند بات ہے۔

تین ممالک کے درمیان معاہدہ واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے ہیڈ کوارٹر میں ہوا۔ اس منصوبے پر دو سو پچاس ملین ڈالر سے چار سو ملین ڈالر کی لاگت آئے گی۔

بحیرۂ مردار میں نمک اور دیگر معدنیات کی اتنی زیادہ مقدار ہے کہ اس میں انسان ڈوبتا نہیں اور اسی وجہ سے یہ ایک مشہور سیاحتی علاقہ ہے۔

لیکن اس سمندر میں پانی میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے اور کئی ماہرین کا خیال ہے کہ 2050 تک یہ بالکل خشک ہوجائے گا۔

اس معاہدے کے تحت پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر کے قریب خلیج عقبہ سے بحیرۂ مردار کے جنوبی حصے میں پانی لایا جائے گا۔

اس پراجیکٹ میں پہلے اردن میں پانی میں سے نمک نکالنے کا پلانٹ لگایا جائے گا۔ اس پلانٹ کے ذریعے اسّی سے سو ملین کیوسک میٹر پانی اردن، غربِ اردن اور اسرائیل کے لیے تیار کیا جا سکے گا۔

پانی کی منتقلی کے اس معاہدے کے تحت اسرائیل اردن اور فلسطینی علاقوں کو سمندر کے شمال سے پانی مہیا کرے گا۔

فرینڈز آف ارتھ مڈل ایسٹ نامی گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پراجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے ماحولیاتی تجزیہ کیا جائے۔

Image caption بحیرۂ مردار میں نمک اور دیگر معدنیات کی اتنی زیادہ مقدار ہے کہ اس میں انسان ڈوبتا نہیں ہے

اسی بارے میں