جنوبی افریقہ: مترجم فراہم کرنے والی کمپنی غائب

Image caption مترجم تھامسنکا دیانتی کی کارکردگی کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے ٹی وی پر دیکھا

جنوبی افریقہ کی ایک وزیر نے کہا ہے کہ اس فرم کا مالک غائب ہو گیا ہے جس نے آنجہانی نیلسن منڈیلا کی ماتمی تقریب میں ایک جعلی اشاروں کی زبان بولنے والا شخص فراہم کیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی وزیر ہنیڈریٹا بوگوپانے زولو نے ملک کی بہری کمیونٹی سے نیلسن منڈیلا کی ماتمی تقریب میں تھامسنکا دیانتی نامی مترجم کی جانب سے پیش کیے جانے والی زبان کے برے معیار پر معذرت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مترجم ہوسا زبان میں بات کر رہے تھے کیونکہ انگریزی ان کے لیے بہت مشکل تھی۔

تھامسنکا دیانتی نے خراب ترجمانی کے عمل کو نفسیاتی مسئلہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں بہت پر جوش رہے ہیں۔

نیلسن منڈیلا کی ماتمی تقریب میں تھامسنکا دیانتی سٹیج پر امریکی صدر براک اوباما اور منڈیلا کے نواسوں کے ساتھ کھڑے تھے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کی وزیر ہنیڈریٹا بوگوپانے زولو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سٹیج پر سکیورٹی کا کوئی مسئلہ تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تھامسنکا دیانتی کی سٹیج پر تعیناتی کو باقاعدہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کی حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس نے اتنے اہم موقع پر تھامسنکا دیانتی کی خدمات کیوں حاصل کیں۔

جنوبی افریقہ کی نائب وزیر برائے خواتین اور معذور افراد ہنیڈریٹا بوگوپانے زولو نے پریس کانفرنس میں اس غلطی کو تسلیم کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے بارے میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ تقریب کے دوران کم سے کم ایک سو زبانوں میں ترجمانی کی جا رہی تھی جس سے ممکن ہے کہ مترجم کو مشکل پیش آ رہی ہو۔

وزیر کا کہنا تھاکہ مترجم تھامسنکا دیانتی نے اچھا آغاز کیا تاہم بعد میں وہ تھک گئے۔

ہنیڈریٹا بوگوپانے زولو نے مترجم تھامسنکا دیانتی کی خدمات کو دوبارہ لینے کے امکان کو خارج از امکان نہیں قرار دیا۔

جنوبی افریقہ کی وزیر نے مترجم تھامسنکا دیانتی کی کمپنی پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس فرم کا مالک غائب ہو گیا ہے جس نے آنجہانی نیلسن منڈیلا کی ماتمی تقریب میں ایک جعلی اشاروں کی زبان بولنے والا شخص فراہم کیا تھا۔

واضح رہے کہ مترجم تھامسنکا دیانتی کی کارکردگی کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔

تھامسنکا دیانتی کا کہنا ہے کہ تقریب کے دوران ان کے دماغ میں ہلچل کی وجہ سے وہ توجہ مرکوز نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں