لبنان میں شام کے پناہ گزین برفانی طوفان کی زد میں

Image caption لبنان کے شمالی علاقے اور بقاع وادی زبردست برفباری، بارش، تیز ہواؤں اور نقطۂ انجماد کے قریب درجۂ حرارت کی زد میں ہے

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ انھیں لبنان میں مقیم شامی پناہ گزینوں کے بارے میں ’انتہائی تشویش‘ ہے کیونکہ وہ خوفناک سرمائی طوفان کی زد میں ہیں۔

لبنان کے شمالی علاقوں اور بقاع وادی میں دو سو سے زیادہ عارضی پناہ گزین کیمپ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ علاقہ زبردست برفباری، بارش، تیز ہواؤں اور نقطۂ انجماد سے کم درجۂ حرارت کی زد میں ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ وہ ’پہلے سے کہیں زیادہ محنت کر رہے ہیں تاکہ لبنان میں پناہ گزین آٹھ لاکھ شامی باشندوں کو بچایا جا سکے۔‘

لبنان کی فوج ان پناہ گزینوں میں کمبلوں سمیت ایمرجنسی سامان تقسیم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

یواین ايچ سی آر کی ترجمان لیزا ابوخالد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم پریشان ہیں کیونکہ بقاع علاقے میں واقعی سخت ٹھنڈ ہے اور ہم لوگ پناہ گزینوں کے بارے میں انتہائی متفکر ہیں کیونکہ وہ ایسے عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں جو حقیقی معنوں میں ناکافی ہیں۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ کم از کم 80 ہزار پناہ گزین ایسے ہیں جنھیں خیموں میں سردی کا موسم گزارنا ہوگا جبکہ بہت سے دوسرے لوگوں کو ایسی عمارتوں میں رہائش ملی ہوئی ہے جو ابھی مکمل نہیں ہیں اور وہاں کمروں کو گرم رکھنے کا انتظام نہیں ہے، بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ خیموں کے مقابلے ان میں قدرے زیادہ تحفظ ہے۔

لیزا ابو خالد نے کہا کہ ادارے کے پاس پناہ گزینوں کے لیے سامان جمع ہے اور اگر ان کے خیموں کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ پلاسٹک کی چادریں اور زمین کے لیے چٹائی، کمبل اور گدے فراہم کر سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی کونسل کو بھی ان میں سے کچھ چیزیں دی گئی ہیں۔

شمالی بقاع وادی کے ایک شہر ارسال کے ایک کونسلر واقف خلاف نے کہا: ’شامی پناہ گزین سردی سے کانپ رہے ہیں، بطور خاص وہ لوگ جو خیموں میں ہیں۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران یہاں 20 ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزین آئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’(بارش کی وجہ سے) چھتوں سے پانی خیموں میں چلا آیا ہے اور زمین سے بھی پانی رس کر خیموں میں آرہا ہے اور فی الحال زمین چار انچ میٹر برف کی چادر سے ڈھکی ہوئی ہے جب کہ مزید برف باری کا امکان ہے۔‘

Image caption بقاع وادی میں بی بی سی کے نمائندے جم موئر کی ملاقات ایک ایسے خاندان سے ہوئی جو اپنے پرانے جوتوں کو جلاکر آگ تاپ رہے تھے کیونکہ ان کے پاس جلانے کے لیے لکڑی نہیں تھی حالانکہ ان کے بچے ننگے پاؤں ہوتے جا رہے تھے

بقاع وادی میں بی بی سی کے نمائندے جم موئر کی ملاقات ایک ایسے خاندان سے ہوئی جو اپنے پرانے جوتوں کو جلا کر آگ تاپ رہے تھے کیونکہ ان کے پاس جلانے کے لیے لکڑی نہیں تھی حالانکہ ان کے بچے ننگے پاؤں چل پھر رہے تھے۔

اس علاقے میں اس طرح کے دلدوز مناظر دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہزاروں لاکھوں لوگ خود کو زندہ رکھنے کی جد و جہد میں لگے ہوئے ہیں۔

موسم کی پیش گوئیوں میں کہا جا رہا ہے کہ تین سے پانچ انچ کے درمیان برف پڑنے والی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق مار چ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً 23 لاکھ افراد پڑوسی ممالک ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے اندر تقریبا 65 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں