23 کروڑ بچے شناخت سے محروم: یونیسف

Image caption جن بچوں کا اندراج نہیں کیا گیا ان میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا اور افریقہ سے ہے

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 23 کروڑ ایسے بچے ہیں جن کی پیدائش کا کبھی اندارج ہی نہیں ہوا۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں تین میں سے ایک بچے کا اندراج نہیں ہوا اور اس کا نقصان انھیں اس طرح سے اٹھانا ہوگا کہ یہ تعلیم، صحت اور سوشل سیکورٹی کے بہت سے منصوبوں کے فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے یہ تحقیق 161 ملکوں میں کی۔

یونیسیف نے گذشتہ سال کہا تھا کہ دنیا بھر میں صرف 60 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا پیدائش کے وقت اندراج ہوتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کی شرح جنوبی ایشیا اور افریقہ کے زیرِ صحارا ممالک میں سب سے کم ہے۔

یونیسیف کی ڈپٹی ڈائریکٹر گیتا راؤ گپتا کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن نہ صرف بچوں کے وجود اور شناخت کی منظوری ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ ’ان بچوں کو بھلا نہیں دیا جائے گا اور انھیں ملک کی ترقی میں برابر حصہ ملے گا۔‘

گیتا راؤ کا کہنا تھا کہ بچوں کا شمار نہ ہونے کا اثر معاشروں اور ممالک کی ترقی پر بھی پڑے گا۔

یونیسیف کا کہنا ہے رجسٹریشن نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جس میں ماں باپ کے پاس اس بات کی معلومات نہ ہونا اور ثقافتی ركاوٹیں شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کئی بار لوگوں کو اس بات کا بھی ڈر ہوتا ہے کہ معلومات کا استعمال نسلی اور مذہبی بنیادوں پر شناحت کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر دیہی علاقے میں رہنے والے اور غریب خاندانوں کے بچوں کا اندراج نہیں کیا جاتا کیونکہ کئی جگہوں پر اس مقصد کے لیے بھاری فیس لی جاتی ہے۔

جن دس ملکوں میں پیدائش کا اندراج سب سے کم ہوتا ہے، ان میں صومالیہ، لائبیريا، ایتھیوپيا، زیمبیا، چاڈ، تنزانیہ، یمن، پاکستان اور كانگو شامل ہیں۔

اسی بارے میں