بھارت:امریکی سفیرکی طلبی، سفارت کار کی گرفتاری پر احتجاج

Image caption كھوبرا گاڑے پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے

بھارت نے دہلی میں امریکہ کے سفیر کو طلب کر نیویارک میں بھارتی قونصل خانے کی اہل کار کی گرفتاری پر احتجاج کیا ہے۔

امریکہ کے شہر نیویارک میں حکام کے مطابق بھارتی قونصل خانے کی نائب قونصل جنرل دیویانی کھوبراگاڑے کو اپنے گھریلو ملازم کے لیے غلط دستاویزات اور غلط بياني کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

جمعے کو بھارت کی سیکریٹری خارجہ سوجیتا سنگھ نے امریکی سفیر نیلسی پاؤل کو طلب کر کے نائب قونصل جنرل کی’توہین آمیز‘گرفتاری پر احتجاج کیا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب قونصل جنرل کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہی تھیں۔

وزارِت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جس طرح سے نائب قونصل جنرل کو توہین آمیز انداز میں گرفتار کیا گیا اس پر ہمیں صدمہ ہوا ہے۔‘

ترجمان کے مطابق دو بچوں کی ماں بھارتی سفارت کار سے اس قسم کا رویہ بالکل ناقابل قبول ہے۔

اس سے پہلے امریکی حکام نے کہا تھا کہ نائب قونصل کھوبراگاڑے پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک ہندوستانی شہری کے لیے غلط دستاویزات اور جان بوجھ کر غلط معلومات پیش کر کے ویزا حاصل کیا۔

امریکی سرکاری وکیل پریت بھرارا کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمین کے طور پر امریکہ لائے جانے والے غیر ملکی شہریوں کو بھی استحصال کے خلاف وہی حقوق حاصل ہیں جو کسی امریکی شہری کو ملتے ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق كھوبراگاڑے کو ڈھائی لاکھ ڈالر کے ذاتی بانڈ پر رہا کر دیا گیا ہے اور انھیں تمام سفری دستاویزات عدالت میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان پر گھریلو ملازمین یا اس کے خاندان کے کسی رکن کے ساتھ رابطہ قائم کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز کے مطابق 2012 میں ملازمین کے لیے ویزا حاصل کرنے کے لیے جو دستاویزات پیش کی گئیں ان میں کہا گیا تھا کہ امریکی قانون کے مطابق ان کے ملازم کی تنخواہ 9.75 ڈالر فی گھنٹہ ہو گی۔

لیکن دستاویزات کے مطابق كھوبرا گاڑے نے گھریلو ملازم کے ساتھ ایک اور معاہدہ کیا جس میں اس کی ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپے اور پانچ ہزار روپے اوور ٹام مقرر کیا گیا۔ ویزا درخواست کے وقت امریکی ڈالروں میں یہ رقم فی گھنٹے کے حساب سے 3.31 ڈالر بنتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی دستاویز کے مطابق ’كھوبرا گاڑے نے اس ملازم کو ہدایت کی کہ وہ ویزا انٹرویو کے دوران اپنی آمدنی 9.75 ڈالر فی گھنٹے ہی بتائے اور 30 ہزار روپے کی تنخواہ کا ذکر نہ کرے۔‘

كھوبرا گاڑے پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے امریکی قانون کے تحت مزدوروں کو دی جانے والي دوسری مراعات کی بھی خلاف ورزی کی۔

ان پر ویزا میں دھوکہ دہی اور غلط بیان دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا ہے اور اگر الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو پہلے الزام کے تحت دس سال اور دوسرے الزام میں پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔