’شامی پناہ گزینوں کے معاملے پر یورپی رہنماؤں کو شرم آنی چاہیے‘

Image caption یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح شام کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی مدد ہے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بہت کم تعداد میں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے تیار ہونے پر یورپی رہنماؤں کو شرم آنی چاہیے۔

تنظیم نے شکایت کی ہے کہ صرف دس یورپی ممالک شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے لیے تیار ہوئے ہیں اور وہ بھی صرف 12 ہزار پناہ گزینوں کو، جب کہ برطانیہ اور اٹلی نے پناہ دینے کی کوئی پیش کش نہیں کی۔

دوسری طرف برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ خطے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جہاں وہ بڑی امداد دینے والوں میں سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی امداد 1.3 ارب یورو تک پہنچ گئی ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح شام کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی مدد ہے جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 65 لاکھ ہے اور وہ بیرون ممالک میں بھی شامی پناہ گزینوں کی امداد کرنا چاہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ مغربی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ سنہ 2014 کے اختتام تک 30 ہزار شامیوں کو پناہ دیں۔

ایک اندازے کے مطابق مار چ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً 23 لاکھ افراد پڑوسی ممالک کو ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں، جب کہ ملک کے اندر تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے یورپی یونین شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے میں ’بری طرح ناکام‘ ہوا ہے اور صرف 55 ہزار پناہ گزین پناہ لینے کی درخواست دے سکے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دس یورپی ممالک نے صرف 12 ہزار شامی پناہ گزین کو پناہ دینے کی اجازت دی ہے جس میں 80 فیصد کا وعدہ جرمنی نے کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق فرانس نے 500 اور سپین نے 30 شامی مہاجرین کو پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں ای یو کی ’پیچھے دھکیلنے‘ والی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کا مقصد ترکی کے راستے یورپ میں آنے والے پناہ گزینوں کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ای یو نے پناہ گزینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دو کروڑ 28 لاکھ یورو کی رقم مختص کی ہے۔

شامی پناہ گزینوں کو پیش آنے والی مشکلات اس وقت کھل کر سامنے آئیں جب موسم سرما کی پہلی برف کے موقع پر لبنان کے شمالی علاقوں اور بقاع وادی میں دو سو سے زیادہ عارضی پناہ گزین کیمپ میں مقیم شامی پناہ گزینوں کو سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق لبنان کا یہ علاقہ زبردست برفباری، بارش، تیز ہواؤں اور نقطۂ انجماد سے کم درجۂ حرارت کی زد میں ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ 38 ہزار شامی مہاجرین لبنان ہجرت کر گئے ہیں جہاں وہ عارضی کیمپوں یا عزیزوں یا دوستوں کے ساتھ مقیم ہیں۔

شدید سردی کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی طرف سے مشرقی شام میں بے گھر افراد کو امداد پہنچانے کی کارروائیاں بھی تاخیر کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں