’ایران میں گمشدہ امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ تھا‘

Image caption لیونسن کے اہلِ خانہ کو اپریل 2011 میں ان کی تصاویر فراہم کی گئی تھیں

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سات برس سے زیرِ حراست امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سابق ایجنٹ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے ایک غیرمنظور شدہ مشن پر کام کر رہا تھا۔

رابرٹ لیونسن مارچ 2007 میں ایرانی جزیرے کِیش میں ایک کاروباری دورے کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے اور امریکی حکام نے ایران سے کئی بار انھیں تلاش کرنے میں مدد دینے کی اپیل کی ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے لیونسن کے اہل خانہ کو زرِ تلافی ادا کیا ہے اور اس مشن سے وابستہ کئی تجزیہ کاروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔

تاہم سی آئی اے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم رابرٹ لیونسن اور امریکی حکومت کے مبینہ تعلق کے بارے میں تبصرہ نہیں کر رہے۔‘

ادارے کے ترجمان ٹاڈ بٹز نے کہا ہے کہ ’امریکی حکومت انھیں بحفاظت ان کے اہل خانہ کے پاس واپس لانے کے لیے پرعزم ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ رابرٹ لیونسن ایران میں خفیہ معلومات جمع کرنے کے ایک غیر منظور شدہ مشن پر ایران گئے اور اس مشن کا راز سامنے آنے پر سی آئی اے کو اندرونی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق سی آئی اے کے تجزیہ کاروں کی ایک ٹیم نے رابرٹ کے لاپتہ ہونے سے قبل انھیں خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے رقم بھی ادا کی تھی اور سی آئی اے نے تین ایسے تجزیہ کاروں کو اس واقعے کے بعد نوکری سے نکال دیا تھا جنھیں اطلاعات کے مطابق جاسوسی کا مشن چلانے کی اجازت نہ تھی۔

اے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی آئی اے نے عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے لیونسن کے اہل خانہ کو 25 لاکھ ڈالر ادا کیے جبکہ اس آپریشن سے وابستہ دس سینیئر تجزیہ کاروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

خبر رساں ایجنسی نے امریکی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے 2010 کے بعد سے اب تک تین مرتبہ ادارے کو لیونسن کے سی آئی اے سے تعلق کو افشا نہ کرنے کو کہا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس نے یہ خبر چلانے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ امریکہ کی جانب سے رابرٹ لیونسن کو واپس لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان کیٹلن ہیڈن کا کہنا ہے: ’امریکی حکومت نے لیونسن کی زندگی کو خطرے کی وجہ سے اے پی پر یہ خبر نہ چلانے کے لیے زور دیا تھا۔‘

Image caption ایف بی آئی نے مارچ 2012 میں لیونسن کی بحفاظت واپسی کے لیے معلومات کی فراہمی پر دس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ اے پی نے یہ خبر نشر کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس سے انھیں واپس لانے کے مقصد میں کوئی مدد نہیں ملی۔‘

خیال رہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ رابرٹ لیونسن کو کس نے پکڑا اور انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم امریکی حکومت کے رابرٹ لیونسن کو تلاش کرنے اور انھیں بحفاظت واپس لانے کے عزم کو دہراتے ہیں۔‘

انھوں نے ایرانی حکومت سے اس سلسلے میں مدد کا مطالبہ بھی کیا تھا اور کہا تھا: ’ہم بصد احترام اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیونسن کی محفوظ طریقے سے واپسی میں مدد دے۔‘

64 سالہ لیونسن جب لاپتہ ہوئے تھے تو ابتدائی طور پر خیال کیا گیا تھا کہ وہ بطور نجی سراغ رساں نقلی سگریٹوں کے کاروبار کی تحقیقات کر رہے تھے۔

ان کے اہلِ خانہ کو اپریل 2011 میں ان کی تصاویر فراہم کی گئی تھیں جن میں انھیں قیدیوں کے نارنجی لباس میں دکھایا گیا تھا اور ان داڑھی بےہنگم انداز میں بڑھی ہوئی تھی۔

اس کے بعد دسمبر 2011 میں ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں انھیں کہتے دکھایا گیا تھا: ’گھر واپس جانے میں میری مدد کریں۔‘

اگرچہ تصاویر اور ویڈیوز میں رابرٹ لیونسن ایک قیدی کے طور پر دکھائی دیتے ہیں لیکن ایران ان کے بارے میں معلومات رکھنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

تحقیقات کاروں نے تصاویر بھیجنے والے فون کو افغانستان میں ڈھونڈ نکالا تھا لیکن اس کا مالک اس عمل میں ملوث نہیں تھا جبکہ لیونسن کی ویڈیو پاکستان میں ایک انٹرنیٹ کیفے سے بھیجی گئی تھی۔

ایف بی آئی نے مارچ 2012 میں لیونسن کی بحفاظت واپسی کے لیے معلومات کی فراہمی پر دس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برس میں امریکی حکومت کو ان کے زندہ ہونے کی کوئی نشانی نہیں ملی ہے۔

اسی بارے میں