شامی افواج کا حلب پر ’بیرل بموں‘ سے حملہ

Image caption شام کے دوسرا بڑا شہر حلب حکومت اور باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں بٹا ہوا ہے

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج نے شمالی شہر حلب پر ’دھماکہ خیز مواد سے بھرے بیرل بم گرائے ہیں‘ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی انسانی حقوق کے نگران ادارے کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں بائیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جس میں چودہ بچے بھی شامل ہیں۔

اس بارے میں شامی حکومت نے کوئی ردِ عمل نہیں ظاہر کیا ہے۔

شام کے دوسرا بڑا شہر حکومت اور باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں بٹا ہوا ہے اور مبینہ طور پر حکومتی افواج باغیوں ہر حملے کرتی رہتی ہیں۔

شہر کے بڑے حصے جو اقتصادی مرکز تھے باغیوں کے گزشتہ سال حملوں کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک سکول بھی نشانہ بنا مگر اس کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حلب کے سخور عرض الاحمر اور حیدریہ کے علاقے حملے کی زد میں آئے۔

Image caption حلب شہر کے بڑے حصے باغیوں کے گزشتہ سال حملوں کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حلب کے میڈیا سنٹر جو انسانی حقوق کے کارکن چلاتے ہیں نے بھی اس بات کی اطلاع دی ہے کہ شہر پر کئی ہیلی کاپٹر حملے کیے گئے۔

اس سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے کہا تھا کہ شام میں جاری تصادم پر مجوزہ امن مذاکرات کے بارے میں انھیں کوئی امید نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ فابیوس نے کہا کہ فرانس کوشاں ہے کہ آئندہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرائے لیکن اس میں ’بہت زیادہ شکوک و شبہات ہیں۔‘

یاد رہے کہ یہ مذاکرات اگلے مہینے میں سوئٹزرلینڈ میں منعقد کرنے کا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فرانس جن حکومت مخالف معتدل گروہوں سے بات چیت کر رہا ہے وہ ’سنگین دشواریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کئی مہینوں سے امن مذاکرات منعقد کرانے کے لیے اپنی اپنی کوششیں کر رہے ہیں جسے جنیوا-2 کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Image caption فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس جن حکومت مخالف معتدل گروہوں سے بات چیت کر رہا ہے وہ ’سنگین دشواریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔‘

ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ، انسانی ہمدردی کے تئيں تعاون اور رسد کی فراہمی اور شام میں سیاسی اقتدار کی منتقلی کے خط و خال کی یقین دہانی کرانی ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر ان مذاکرات میں شامل ہوں گے لیکن وہ پہلے سے طے شرائط قبول نہیں کریں گے اور ’دہشت گردوں‘ سے بات چیت نہیں کریں گے۔

حزب اختلاف نے کہا ہے کہ اس بحران کا کوئی بھی سیاسی حل صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بغیر ممکن نہیں۔

بہر حال ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ 22 جنوری سے سوئٹزرلینڈ کے شہر مونٹریو میں شروع ہونے والی کانفرنس میں کون حصہ لیں گے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق تیس ممالک کے نمائندوں نے ان مذاکرات میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اسی بارے میں