شامی مہاجرین کی امداد کے لیے تاریخی اپیل

Image caption اب تک کی جانے والی یہ سب سے بڑی امداد کی اپیل ہے

اقوام متحدہ نے شامی مہاجرین کی امداد کے لیے ساڑھے چھ ارب ڈالر کی اپیل کی ہے جو اب تک کی جانے والی اپیلوں میں مالیت کے اعتبار سے سب سے بڑی اپیل ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دو کروڑ 24 لاکھ کی کل آبادی میں سے دو تہائی کو 2014 میں انسانی امداد مہیا کرنا پڑے گی۔

یہ اپیل بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ آئی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ شام میں آبادی کو اب خوراک کی شدید کمی کا خطرہ درپیش ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں روٹی کی قیمت میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

سروے کے مطابق اب ہر پانچ میں چار شامی باشندوں کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی پریشانی اب خوراک کی کمی ہے۔

شامی مہاجرین کے لیے امداد کی اپیل سوئٹزرلینڈ کے شہرا جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ویلیری ایمس اور اقوام متحدہ کےادارے برائے مہاجرین کے سربراہ انتونیو گوئیترس نے مشترکہ طور پر کی۔

اقوام متحدہ 2014 میں پناہ گزینوں کی امداد کرنے کے لیے مجموعی طور پر 13 ارب ڈالر مانگ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی سفیر بیرنس ایمس کا کہنا تھا کہ: ’وہ مجھے سے پوچھتے ہیں کہ دنیا نے ہمیں تنہا کیوں چھوڑ دیا ہے؟‘

شام کے لیے مانگی جانے والی چھ ارب ڈالر کی امداد میں سے تقریباً دو ارب ڈالر شام کے اندر شہریوں کی امداد کے لیے خرچ کیے جائیں گے جبکہ چار ارب سے کچھ زیادہ رقم ہمسایہ ملکوں میں موجود شامی مہاجرین کی امداد کے لیے صرف ہو گی۔

اقوام متحدہ کی طرف سے تازہ اپیل اس سال جون میں چار اعشاریہ چار ارب ڈالر کی اپیل سے بھی کہیں زیادہ ہے جس کا اب تک صرف 66 فیصد ہی وصول ہو پایا ہے۔

Image caption لڑائی کی وجہ سے امدادی اداروں کی کئی علاقوں میں امداد پہنچانے میں مشکل درپیش ہے

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے سربراہ گوئترس نے کہا:’ہمیں ایک اندوہناک صورت حال کا سامنا ہے جہاں 2014 کے اختتام تک شام کی تقریباً تمام آبادی کو امداد کی ضرورت ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال کا سامنا ماضی قریب میں نہیں ہوا اور اس صورت حال میں سیاسی حل اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

ویلیرے آموس نے شام کی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدید دور کا سب سے بڑا بحران بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی مہاجرین کا خیال ہے کہ انھیں دنیا نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2011 میں شروع ہونے والے اس تنازعے میں اب تک 63 لاکھ لوگ شام کے اندر در بدر ہو چکے ہیں، جب کہ 20 لاکھ شامی ہمسایہ ملکوں کو ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جو لوگ شام میں رہ گئے ہیں ان میں سے نصف کو امداد کی ضرورت ہے، اور سردیوں کا موسم شروع ہونے کے بعد صورت حال ابتر ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی امدادی اداروں کو کہنا ہے کہ شام میں حکومت اور باغیوں میں جاری لڑائی کی وجہ سے انھیں انسانی امداد، جن میں دوائیاں اور طبی امداد بھی شامل ہے، متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اسی بارے میں